خطبات محمود (جلد 22) — Page 592
* 1941 592 خطبات محمود وہ دوسرا فریق یہی سمجھتا تھا کہ اس کے دل میں میرے متعلق محبت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔کیونکہ کئی لوگ ہوشیاری کی وجہ سے اپنے خیالات کو اس طرح چھپاتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی خیالات کو ظاہر کرنے کے لئے چہرے میں بہت کچھ سامان رکھ دیا ہے پھر بھی وہ ان آثار کو دبا دیتے ہیں اور اپنے خیالات کو ایسا مخفی رکھتے ہیں کہ دوسرا شخص قرائن سے بھی نہیں سمجھ سکتا کہ ان کے اندر کینہ ہے یا بغض ہے یا وہ کوئی بد ارادہ رکھتے ہیں۔تو پاس لیٹے ہوئے میاں بیوی کو ایک دوسرے کے خیالات کا پتہ نہیں ہوتا ، پاس لیٹے ہوئے ماں اور بیٹی کو ایک دوسرے کے خیالات کا پتہ نہیں ہوتا، پاس لیٹے ہوئے باپ اور بیٹے کو ایک دوسرے کے خیالات کا پتہ نہیں ہوتا اور جب ایک دوسرے کے خیالات کو انسان سمجھ ہی نہیں سکتا تو ان امور میں ایک دوسرے کی مدد کیا کر سکتا ہے اور وہ خیالات جو انسانی قلب کی گہرائیوں میں پیدا ہوتے ہیں ان کو کس طرح درست کر سکتا ہے۔انسان دوسرے کو سمجھا کر اُس کی عقل تو درست کر سکتا ہے مگر انسان دوسرے کو سمجھا کر اس کے ایمان اور جذبات کو درست نہیں کر سکتا کیونکہ ایمان اور جذبات کی درستی اپنے ارادہ سے ہوتی ہے اور یہ ارادہ لوگوں کے دلوں میں اُس وقت تک پیدا نہیں ہوتا جب تک انہیں خود تجربہ نہ ہو۔جب ایک انسان جنگ میں کود پڑتا ہے اسے زخموں پر زخم لگتے ہیں۔اس کی عادات اسے کسی طرف لے جانا چاہتی ہیں اور حالات اسے کسی طرف لے جاتے ہیں۔تب اس کے دل میں اپنی عادات کے متعلق افسوس پیدا ہوتا ہے اور گو بظاہر وہ یہ سمجھتا ہے کہ میری خواہشات پوری نہیں ہوئیں مگر جب وہ ان زخموں کو برداشت کر لیتا ہے تب اس کے اندر اپنے نفس کا مقابلہ کرنے کی قوت پیدا ہوتی ہے۔اگر انسانی ترقی کے راستہ میں اس قسم کی قربانیاں نہ ہو تیں تو محض عقلی لحاظ سے انبیاء کا ماننا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ایک ادنی تدبر سے قرآن کریم کی بتائی ہوئی علامات کے مطابق محمد صلی الم کو سچا اور راستباز مانا جا سکتا تھا لیکن محمد صلی الل علم کے ماننے کے نتیجہ میں چونکہ بیویاں چھوڑنی پڑتی تھیں، بچے