خطبات محمود (جلد 22) — Page 572
* 1941 572 خطبات محمود اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر الہام نازل کیا کہ اے موسیٰ ! تُو نے آج ہمارے بندے کا دل بہت دُکھایا۔اے موسیٰ! تو اپنے علم کے مطابق ہم سے محبت کرتا ہے اور وہ اپنے علم کے مطابق ہم سے محبت کا اظہار کر رہا تھا۔تیرا کیا حق تھا کہ تو اس کی باتوں میں دخل دیتا ہمیں تو اس کی یہی باتیں پیاری لگ رہی تھیں۔5 اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے۔ایک بندہ اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہا تھا کہ تو میرا اللہ ہے اور میں تیرا بندہ ہوں مگر اسے دعا کرتے کرتے کچھ ایسا جوش آیا کہ وہ حالت بے اختیاری میں کہنے لگا اے اللہ میں تیرا رب ہوں اور تو میرا بندہ ہے۔رسول کریم صلی ا کرم فرماتے ہیں کہ جب اس نے یہ کہا کہ تو اللہ تعالیٰ کو اس کی یہ بات بڑی ہی پیاری معلوم ہوئی کیونکہ جوش محبت میں اسے یہ ہوش ہی نہ رہا کہ وہ کیا کہنا ا ہے اور کیا کہہ رہا ہے تو اللہ تعالیٰ مومن کی نیت اور اس کے ارادہ کو دیکھتا ہے۔یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے منہ سے الفاظ کیا نکل رہے ہیں۔مثلاً وہی الفاظ جن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے اگر کوئی دانستہ کہے گا تو وہ گنہگار ہو گا لیکن اگر کسی کی زبان سے جوش محبت میں مدہوشی کی حالت میں نکل جائیں تو وہ گنہگار نہیں ہو سکتا۔تو اللہ تعالیٰ صرف لفظوں کو نہیں دیکھتا بلکہ اُس روح کو دیکھتا ہے جو الفاظ کے پس پردہ کام کر رہی ہوتی ہے۔جب ایک شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے دعا کرنے کے لئے جاتا ہے اور وہ پوری طرح اپنے نفع اور نقصان کو سمجھ کر جاتا ہے تو ایسی حالت میں اگر وہ کوئی غلطی بھی کر بیٹھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس طرح قبول نہیں کرتا جس طرح وہ دعا مانگ رہا ہوتا ہے بلکہ اس رنگ میں قبول کرتا ہے جس رنگ میں اس دعا کا قبول ہونا اس کے لئے بہتر ہوتا ہے۔اس طرح گو بعض دفعہ اسے یہ خیال گزرتا ہے کہ میری دعا قبول نہیں ہوئی مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی دعا قبول ہو چکی ہوتی ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ اُس کے لئے وہ امر ظاہر کرتا ہے جو اس کے لئے مفید ہوتا ہے۔گو بظاہر وہ اس کی مراد کے خلاف ہی کیوں نہ نظر آئے مثلاً ایک شخص کا بیٹا سخت بیمار ہے اور وہ دعا کرتا ہے کہ یا اللہ میرے بیٹے کو صحت دے دے۔