خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 553 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 553

* 1941 553 خطبات محمود بچتی چلی آئی یہاں تک کہ جو اس کا صحیح معنوں میں مصداق تھا اس نے ان پیشگوئیوں کو اپنے زمانہ پر چسپاں کیا۔ممکن ہے کوئی شخص کہہ دے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام تھے تو نعوذ بالله جھوٹے ہیں مگر چونکہ آپ زیادہ ہوشیار تھے اس لئے آپ نے ان پیشگوئیوں کو اپنے زمانہ پر چسپاں کر لیا مگر سوال یہ ہے کہ اگر آپ نے ان پیشگوئیوں کو جھوٹے طور پر اپنے زمانہ پر چسپاں کر لیا تھا تو خدا نے ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے سامان کیوں کر دیئے؟ غرض یاجوج و ماجوج کے فتنہ سے تعلق رکھنے والی جو پیشگوئیاں قرآن و احادیث اور پہلی کتب میں پائی جاتی تھیں۔وہ آج پوری ہو رہی ہیں۔چنانچہ گزشتہ جنگوں کا رو اس جنگ سے مقابلہ کر کے دیکھ لو۔تمام دنیا یہ اقرار کر رہی ہے کہ یہ جنگ گروہوں کی جنگ ہے اور اخبارات میں ہمیشہ یہ لکھا ہوتا ہے کہ یہ جنگ در حقیقت ڈیما کریسی کا ڈکٹیٹر شپ سے مقابلہ ہے۔یعنی آزادی رائے سے جو حکومت کی جاتی ہے اس کا جبری حکومت۔مقابلہ ہے۔ڈکٹیٹر شپ کے ماتحت حکومت کرنے کے ނ جرمنی اور اٹلی والے حامی ہیں اور ڈیما کریسی یعنی جمہوریت اور آزاد رائے۔حکومت کرنے کے حامی برطانیہ اور امریکہ وغیرہ ہیں۔یہی دو اصول ہیں جن کی اس وقت جنگ ہو رہی ہے۔ایک فریق ایک اصل کو دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے اور دوسرا فریق دوسرے اصل کو دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ انبیاء کے کاموں کو ان کے خلفاء کے ذریعہ تکمیل تک پہنچایا کرتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے ہی یہ توفیق عطا فرمائی کہ میں نے دنیا کے سامنے یہ حقیقت بیان کی کہ یاجوج اور ماجوج دو قوموں کے نام نہیں بلکہ دو اصول کے نام ہیں چنانچہ تین چار سال ہوئے اسی منبر پر کھڑے ہو کر میں نے ایک خطبہ پڑھا تھا جس میں کہا تھا کہ :۔66 یا جوج اور ماجوج دو اصول ہیں جو اس زمانہ میں دنیا پر