خطبات محمود (جلد 22) — Page 533
* 1941 533 خطبات محمود نکالتا ہے۔ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو چھ یا سات مہینہ میں اپنے دانت نکال لیتے یا نکالنے شروع کر دیتے ہیں مگر بالعموم ایسے دانت جن سے بچہ کسی قدر غذا حاصل کر سکتا ہے وہ ڈیڑھ دو بلکہ اڑھائی سال کے بعد مکمل ہوتے ہیں۔اتنے لمبے عرصہ تک اپنی جان کو دکھوں میں ڈال کر ایک عورت جو اپنے بچہ کی خدمت کرتی ہے یہ بغیر اس کے کبھی ممکن ہی نہیں تھا جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے دل میں پرورش کا خیال اور بچہ کی محبت پیدا نہ کر دی جاتی۔یہ مت خیال کرو کہ صرف ماں ہونا ہی اس محبت کا موجب ہو سکتا ہے کیونکہ ماں کے جذبات اس کے اپنے اختیار کی چیز نہیں ہوتے۔اور اختیاری چیز ہی کسی انسان کی طرف منسوب کی جا سکتی ہے۔جو چیز کسی انسان کے اختیار کی نہیں وہ اس کی طرف منسوب کس طرح کی جا سکتی ہے۔وہ تو لازماً کسی اور ہستی کی طرف منسوب کرنی پڑے گی اور وہ ہستی اللہ تعالیٰ کی ہی ہے جس نے ماں کے دل میں اپنے بچوں کی محبت پیدا کی اور اسے پیدائش اور پرورش کی تکالیف برداشت کرنے کی طاقت دی۔چنانچہ سالہا سال تک وہ اپنے بچوں کو پالتی رہتی ہے۔پہلے نو ماہ تو وہ اپنے بچہ کو پیٹ میں اٹھاتی ہے پھر دوسال اسے گود میں اٹھاتی ہے۔گویا اوسطاً اڑھائی سال تک ماں اپنے بچہ کے لئے ہی ہو رہتی ہے۔تب کہیں وہ پرورش پاتا ہے۔مگر اس کے بعد وہ فارغ نہیں ہو جاتی۔بلکہ بالعموم اس وقت ایک دوسرے بچہ کی آمد شروع ہو جاتی ہے۔اور اس طرح اپنی زندگی کا بہترین حصہ عورت اپنے بچوں کی پرورش میں لگا دیتی ہے۔ہے پس یہ جذبہ محبت جو ہر عورت کے دل میں اپنے بچوں کے متعلق پایا جاتا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی پیدا کیا گیا ہے۔ورنہ اتنی محنت کی برداشت انسانی عقل کے ماتحت نہیں ہو سکتی تھی۔اگر خدا تعالیٰ یہ جذبات ماں کے دل میں پیدا نہ کرتا تو آہستہ آہستہ فلسفہ اور عقل کے ماتحت یا تو انسان اولاد پیدا کرنا ہی بند کر دیتے اور یا پھر ان کی پرورش کی طرف سے اپنی توجہ کلیہ ہٹا لیتے۔پھر خدا تعالیٰ کے ممیت ہونے کا نظارہ بھی روزانہ نظر آتا ہے۔بڑے بڑے