خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 521

* 1941 521 خطبات محمود آگے چلا گیا اور قاضی فوراً اس کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میاں سناؤ تم ایک دفعہ آئے تھے اور کہتے تھے کہ تم نے کچھ روپیہ میرے پاس امانت رکھا تھا۔اس کے بعد تم آئے ہی نہیں۔آکر اس کا کچھ اتہ پتہ بتاتے تو یاد آ سکتا تھا۔تاجر نے پھر وہی باتیں جو کئی بار پہلے بھی کہہ چکا تھا دوہرا دیں کہ آپ یوں بیٹھے تھے اس طرح کی تھیلی تھی ایسا رنگ تھا اور اس میں روپے رکھے تھے۔یہ سن کر قاضی نے کہا کہ اوہو! تم نے یہ سب باتیں پہلے کیوں نہ یاد کرائیں۔ایسی تھیلی تو میرے پاس پڑی ہے۔آکر لے جاؤ۔چنانچہ اپنی امانت واپس لے آیا۔تو یہ ذہنیت کا سوال ہے۔ایک وقت اس نے سمجھا کہ مجھے کوئی پوچھنے والا نہیں اس تاجر کا کوئی مددگار نہیں۔میں اس کی امانت ہضم کر لوں گا تو اس نے انکار کر دیا۔مگر جب دیکھا کہ بادشاہ اس کا دوست ہے اور یہ روپیہ ہضم نہ ہو سکے گا تو فوراً واپس کر دیا۔اسی طرح جب ماتحت حکام کو خیال ہو کہ حکومت کی ذہنیت کسی جماعت کے موافق ہے تو وہ شرارت سے رکے رہتے ہیں لیکن جب ان کا خیال ہو جائے کہ اعلیٰ حکام کی رائے اس جماعت کے خلاف ہے تو وہ اس کی مخالفت کرنے لگ جاتے ہیں۔باتیں تو وہی ہوتی ہیں مگر جب حکام کی ذہنیت خراب نہ ہو تو وہ ان باتوں کی پرواہ نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ مخالف ایسی باتیں بنایا ہی کرتے ہیں۔مگر جب حکام کی ذہنیت خراب ہو جائے تو وہ انہی باتوں کو بہت اہمیت دے دیتے ہیں۔باتیں جہاں تک ہم سمجھتے ہیں پنجاب گورنمنٹ سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔انگریز قوم سے نہیں۔انگریز قوم میں بعض لوگ ہمارے دوست ہیں۔اور گزشتہ شورش کے ایام میں انہوں نے ہماری مدد بھی کی تھی اور برطانوی حکومت نے ان باتوں میں دخل ہی نہ دیا تھا۔لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ پنجاب گورنمنٹ یا اس کے بعض عہدہ داروں کی طرف سے ہمارے خلاف کارروائیاں ضرور کی جاتی ہیں اور ہمارے لئے ایک اور مشکل بھی ہے اور وہ یہ کہ ہماری شریعت ہمیں حکومت کا