خطبات محمود (جلد 22) — Page 493
* 1941 493 خطبات محمود کر دیں یہانتک کہ آپ نے ”کتاب البریہ“ میں وہ تمام گالیاں بھی جمع کر دیں جو رسول کریم صلی الیم کو ہندوؤں، عیسائیوں اور سکھوں کی طرف سے دی گئی تھیں۔اسی طرح آپ نے ان گالیوں کو بھی جمع کر دیا جو ہندوؤں عیسائیوں اور عام مسلمانوں کی سے آپ کو دی گئی تھیں۔اس وقت اسی قسم کے بعض “مخلص” غیر احمدیوں الله سة نے آپ پر کفر کا فتویٰ لگا دیا محض اس بناء پر کہ حضرت مرزا صاحب نے عیسائیوں ہندوؤں اور سکھوں کی ان گالیوں کو نقل کیوں کیا جو رسول کریم صلی ا ہم کو دی گئی تھیں۔انہیں تو چاہئے تھا کہ ان گالیوں کو چھپاتے۔ان نادانوں نے یہ نہ سمجھا کہ رسول کریم صلی نیلم کے متعلق مخالفین کی گالیاں جمع کرنے سے آپ کی عزت بڑھتی ہے گھٹتی نہیں کیونکہ عزت وہی ہے جو خدا کی طرف سے ملے۔مجھ سے کئی دفعہ انگریز افسروں نے خواہش کی ہے کہ اگر آپ پسند کریں تو حکومت سے آپ کو کوئی خطاب دلوا دیا جائے۔مگر میں نے ہمیشہ انہیں یہی کہا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے خطاب ملا ہوا ہے۔وہی میرے لئے کافی ہے۔اس کے سوا مجھے کسی خطاب کی ضرورت نہیں۔اگر میں گورنمنٹ کے خطابات کو اپنے لئے عزت کا موجب سمجھتا تو اس قسم کی پیشکش کو کیوں ٹھکرا دیتا۔میرا ایسا کرنا بتلاتا ہے کہ میں گورنمنٹ کی دی ہوئی کسی عزت کو اپنے لئے عزت نہیں سمجھتا بلکہ میں تو سمجھتا ہوں جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے۔ترک حرمین کے محافظ نہیں بلکہ حرمین ترکوں کے محافظ ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے گو ظاہر میں جماعت احمدیہ کی حفاظت کا کام انگریزوں کے سپرد کیا ہوا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم اس کے محافظ ہیں اور ہماری خاطر ہی خدا تعالیٰ ان سے نرمی کا معاملہ کر رہا ہے۔مگر کہتے ہیں ع فکر ہر کس بقدر ہمت اوست ہر شخص کی ہمت اور استعداد کے مطابق اس کے فکر کی بلندی ہوتی ہے۔یہ نادان بھی سمجھتا ہے کہ انگریزوں کی پولیس چونکہ اس دن ہماری کو ٹھی میں گھس آئی تھی اور کئی گھنٹے تک ہمارے دروازہ پر کھڑی رہی۔اس لئے اس واقعہ سے ہماری ہتک ہو گئی