خطبات محمود (جلد 22) — Page 484
خطبات محمود 484 * 1941 ہی ہے مگر دوسرا شخص اسے ملتا نہیں اور وہ واپس گھر آ جاتا ہے تو ہم اسے قاتل نہیں کہیں گے یا اگر وہ تلوار لے کر دوسرے کے سر پر بھی پہنچ جاتا ہے اور پھر قتل کرنے سے پیشتر اپنے ہاتھ کو نیچے گرا دیتا ہے تو اس وقت بھی اسے ہم قاتل نہیں کہیں گے بلکہ اگر وہ تلوار سے دوسرے پر حملہ کر بھی دیتا ہے لیکن حملہ کرتے وقت اس کے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اپنی ضرب کو کمزور کر دیتا ہے تو اس وقت بھی ہم اسے قاتل نہیں کہیں گے کیونکہ ہمارا کوئی حق نہیں کہ کسی کا فعل مکمل ہونے سے پہلے اس کے متعلق کسی آخری فیصلہ کا اظہار کریں۔ایسا وہی کرتا ہے جو جلد باز ہو اور جو سمجھتا ہو کہ اس وقت تو جوش کی حالت ہے پھر نہ معلوم جوش رہے یا نہ رہے۔بہتر ہے کہ اسی وقت کام کر لیا جائے۔مگر ایسے انسان کی مدد یا ہمدردی کوئی فائدہ پہنچانے والی نہیں ہوتی۔خط ایک خط اور اس کا جواب: پس اس معاملہ کے متعلق تو میں اتنی ہی بات کہتا ہوں۔ہاں ایک اور معاملہ ہے جو اس کی شاخ کے طور پر پیدا ہوا ہے اور میں اس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔وہ معاملہ یہ ہے کہ مجھے کل ایک خط موصول ہوا ہے وہ خط ایک ایسے شخص کی طرف سے ہے جو اپنے آپ کو احمدی ظاہر کرتا ہے۔اس ٹکٹ نہیں بلکہ مقامی ڈاک کے ذریعہ سے ملا ہے جس سے میں سمجھتا ہوں کہ کوئی مقامی آدمی اس خط کا لکھنے والا ہے۔اس خط میں اس نے بجائے اپنا نام لکھنے کے اپنے آپ کو مخلص احمدی ” قرار دیا ہے۔اس کے احمدی اور پھر مخلص احمدی ہونے کا تو اسی سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے اپنا نام ہی نہیں لکھا حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔میں اسی کو مومن قرار دیتا ہوں جو خدا تعالیٰ کے تازہ نشانات پر ایمان رکھتا ہو اور نفاق کا کوئی شائبہ تک اس کے اندر نہ پایا جاتا ہو 10 مگر اس “ مخلص احمدی ” کی یہ حالت ہے کہ ڈر کے مارے اس نے اپنا نام تک ظاہر نہیں کیا۔ایسے شخص کو ہم احمدی بھی کیونکر سمجھ سکتے ہیں کجا یہ کہ اسے مخلص احمدی ”سمجھا جائے۔پھر یہ تمام خط عجیب و غریب اضداد سے بھرا ہوا ہے۔مجھے لکھتا ہے تم