خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 483

* 1941 483 خطبات محمود ہوا ہے ہے مدینہ میں جانے کے بعد جب ان کو لڑائی کی اجازت ملی تو اس وقت بھی وہ ویسے ہی جوش سے بھرے ہوئے تھے۔جیسے مکی زندگی میں۔تو ایمان کی علامت یہ ہوتی کہ مومن کے سینہ کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوتی۔پس میں اس معاملہ میں جماعت کے دوستوں کو یہی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ صبر کریں اور استقلال کے دامن کو کبھی اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔میں نے اپنے دل میں یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ سات اکتوبر تک ہم گورنمنٹ کی تحقیق کا انتظار کریں گے اور اس وقت تک ہم کوئی مزید یاد دہانی کسی قسم کی نہیں کرائیں گے۔سات اکتوبر تک اس واقعہ پر قریباً 25 دن گزر چکے ہوں گے۔اس کے بعد اگر ضرورت محسوس ہوئی تو یاد دہانی کرائی جائے گی۔باقی خبریں ہم کو ملتی ہی رہتی ہیں۔اس لحاظ سے جس حد تک کام گورنمنٹ کی طرف اور جو کچھ وہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اس کا ایک حد تک ہمیں علم ہے۔مگر یہ چیزیں اس قسم کی نہیں ہوتیں کہ ان کو بنیاد قرار دے کر مومن کسی امر کا فیصلہ کر دے۔خدا کہتا ہے کہ ایک شخص اگر گناہ کرنے اور خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے کے باوجود غرغرہ موت سے پہلے توبہ کر لے تو میں اس کے گناہ معاف کر دیتا ہوں۔9 تو جبکہ خدا کسی بندے کے متعلق اس وقت تک کوئی آخری فیصلہ نہیں کرتا جب تک اس کی جسمانی زندگی ختم نہ ہو جائے تو بندے کس طرح ایسا کر سکتے اور کسی کا فعل مکمل ہونے سے پہلے اسے اچھا یا بُرا کہنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔بلکہ اچھا کہنے میں تو پھر بھی کوئی حرج نہیں لیکن کسی فعل کو بُرا اس وقت تک نہیں کہا جا سکتا جب تک اس فعل کا مرتکب اپنے فعل کو مکمل نہ کر دے۔مثلاً فرض کرو کوئی شخص کسی دوسرے کو قتل کرنے کی نیت سے جا رہا ہے۔اب جہاں تک نیت کا سوال ہے۔ہم کہیں گے کہ وہ بری ہے مگر جہاں تک فعل کا سوال ہے ہم اس بارہ میں اس وقت تک کچھ نہیں کہہ سکتے جب تک وہ اپنے فعل کو مکمل نہیں کر لیتا یا اس فعل سے باز نہیں آ جاتا۔فرض کرو وہ شخص جاتا تو قتل کی نیت سے۔