خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 466

* 1941 466 خطبات محمود جن پر قانون کی جب ضرب پڑی تو انہوں نے قانون کو ہی چھوڑ دیا۔ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کانگرسیوں کی طرح نہیں ہیں اور ہم قانون کے احترام کو کسی صورت میں ترک نہیں کر سکتے۔ہم ہمیشہ اطاعت اور فرمانبرداری کے مقام پر کھڑے رہیں گے اور اگر وہ ہم پر رائفلیں بھی چلائیں گے تو ہم ان کا مقابلہ نہیں کریں گے۔کیونکہ ہماری رائفل ہمارا خدا ہے، ہماری تلوار ہمارا خدا ہے اور ہماری توپ ہمارا خدا ہے۔اس رائفل، اس تلوار اور اس توپ کے مقابلہ میں اگر دنیا کی تمام رائفلیں، دنیا کی تمام تلواریں اور دنیا کی تمام تو پیں بھی رکھ دی جائیں تو وہ تباہ اور برباد ہو جائیں گی۔ہیر خطبہ کو صاف کرتے ہوئے مجھے ضروری معلوم ہوا کہ میں یہ بھی ظاہر کر دوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے رنج کے وقت ان کی خوشی کا بھی سامان کر دیتا انچہ جب میں سارا دن کی کوفت کے بعد زنانہ میں آیا تو میری بیوی نے مجھ سے ذکر کیا کہ امة القیوم سلمہا اللہ تعالیٰ میری لڑکی نے سنایا کہ اس بارہ میں ابا جان کی ایک رؤیا اس واقعہ کے بارہ میں تھی جو انہوں نے مجھے سنائی تھی اور بعض دفعہ بہن سے راد بھائی ہوتا ہے۔تب مجھے وہ رؤیا یاد آ گئی جو ایک دو سال پہلے کی ہے۔میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مدرسہ احمدیہ کے ایک کمرہ میں ہوں اور وہاں عزیزه امة القيوم سلمہا اللہ تعالیٰ اور میری چھوٹی بیوی مریم صدیقہ بیگم سلمها اللہ تعالیٰ بھی میرے ساتھ ہیں۔دروازہ بند ہے مگر دروازہ میں بڑی بڑی دراڑیں ہیں۔میری نظر جو پڑی تو میں نے دیکھا کہ ان دراڑوں میں سے پولیس کے کچھ سپاہی جھانک رہے ہیں۔میں نے ان دونوں کو چھپا دیا اور باہر نکل کر ان پولیس والوں سے کہا کہ تم کیوں جھانک رہے تھے ؟ اس پر وہ کمرہ کے اندر آ گھسے۔اس وقت میں دل میں کہتا ہوں کہ اندر میری بیوی اور لڑکی ہیں۔ان کی بے پردگی ہو گی مگر پھر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سب باتوں پر قادر ہے۔وہ خود ان کی حفاظت کرے گا چنانچہ جب وہ کمرہ میں گھس آئے اور ادھر ادھر تلاش کرنے لگے تو میں نے دیکھا