خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 408

* 1941 408 خطبات محمود جب دیکھتے ہیں کہ یہ کھلونے نہ سواری کے کام آتے ہیں نہ بوجھ اٹھانے کے تو دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔مجھے یاد ہے بچپن میں میں نے ایک دفعہ مٹی کی چھوٹی سی چگی خریدی اور کے لئے اس میں چند دانے ڈال دیئے پھر میں نے اسے چلایا تو دانے اندر ہی پھنس گئے اس پر جب مجھے معلوم ہو گیا کہ یہ چکی دانے نہیں پہیں سکتی تو اسے اٹھا پینے۔اصرار ہے کر پھینک دیا۔میں سمجھتا ہوں کہ باقی بچوں کے دلوں میں بھی یہی خیال آتا ہو گا اور چونکہ جو مقصد انہوں نے اپنے ذہن میں رکھا ہوتا ہے وہ پورا نہیں ہوتا اس لئے کھلونوں کو توڑ پھوڑ دیتے ہیں حالانکہ یہ بچوں کی اپنی غلطی ہوتی ہے۔کیا کوئی کھلونے بیچنے والا یہ کہا کرتا ہے کہ یہ چکیاں دانے پیسیں گی یا گھوڑے چلیں گے یا ریل بوجھ اٹھائے گی۔وہ ان کو کھلونے ہی کہتا ہے مگر نادان بچہ یہ سمجھ کر کہ ان کھلونوں سے سواری کا یا بوجھ اٹھانے کا یا دانے پینے کا کام میں گے ان کے حصول پر ا اور جب دیکھتا ہے کہ وہ اس کے خیال کے مطابق نہیں نکلے تو انہیں پھینک دیتا ہے۔اسی طرح مذہبی جماعتوں میں داخل ہوتے وقت بھی بعض لوگ عجیب و غریب خیالات لے کر آتے ہیں۔کئی لوگ ہماری جماعت میں داخل ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ادھر وہ جماعت میں داخل ہوئے اور جماعت کے تمام لوگ ایک ایک یا دو دو روپیہ چندہ جمع کر کے انہیں آٹھ دس ہزار روپیہ دے دیں گے۔چنانچہ میں نے دیکھا ہے بعض لوگ جب بیعت کر کے جاتے ہیں تو آٹھویں دن ہی ان کی طرف سے خط آ جاتا ہے کہ ہمیں روپیہ کی سخت ضرورت ہے اگر آپ آٹھ آٹھ آنے یا بھی تمام جماعت کے لوگوں سے ہمارے لئے چندہ جمع کروا دیں تو ایک ایک روپیہ دس ہزار روپیہ اکٹھا ہو سکتا ہے اور ہماری تمام ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔گویا وہ پہلے ہی اپنے خیال میں جماعت کا ایک نقشہ کھینچ لیتے ہیں اور اسی خیال کے زیر اثر جماعت میں شامل ہوتے ہیں لیکن جب ان کی امید پوری نہیں ہوتی تو کہتے ہیں ہم نے