خطبات محمود (جلد 22) — Page 395
خطبات محمود 396 کیونکہ پہلے ان کے دل میں کامیابی کی امید بندھ گئی تھی۔* 1941 پس یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ مومنوں کے لئے کبھی ابتلاء کے سامان پیدا کر دیتا ہے اور کبھی آرام و آسائش کے، کبھی قبض کی حالت پید اکر دیتا ہے اس اور کبھی بسط کی۔او بسط کی۔اور ہمارے لئے بھی یہ حالتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں اور ان ایام میں بھی مختلف رنگوں میں اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں جو بظاہر تکلیف دہ نتائج پیدا کرنے والے ہیں تا وہ ہماری کمزوریوں کو دور کرے۔یا شاید مخالفوں کو جھوٹی خوشی دکھانے کے لئے، تا وہ سمجھیں کہ اب ہمارا ہاتھ اچھی طرح پڑ گیا ہے۔قسم کی کئی باتیں ہیں جن کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔کئی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں ہمارے عام دشمنوں کی طرف سے ہی نہیں بلکہ بعض گورنمنٹ کی طرف سے بھی ہیں۔بعض اور حوادث بھی ہیں جن کے بیان کی ضرورت نہیں۔میں اس وقت صرف دوستوں کو خاص طور پر دعاؤں کی تاکید کرتا ہوں تا اللہ تعالیٰ جماعت کو دشمنوں کی شرارتوں اور مخالف کوششوں سے محفوظ رکھے۔اور وہ جس طرح ہمیشہ ان کو ناکامی اور ذلت کا منہ دکھاتا رہا ہے اب بھی ناکامی اور ذلت کا منہ دکھائے اور ہمیں کسی قسم کی مدد کی امید نہیں وہی ہمارا رب ہے اور ہم اس کے بندے ہیں اور اسی سے ہم نے مانگنا اور طلب کرنا ہے۔دنیا میں کسی کو اپنے جتھے پر گھمنڈ ہوتا ہے، کسی کو مال و دولت پر، کسی کو اپنی طاقت و قوت پر گھمنڈ ہوتا ہے اور کسی کو اپنے سامانوں پر مگر ہمارے لئے گھمنڈ کی کوئی چیز نہیں سوائے خدا تعالیٰ کی ذات کے ہمارے لئے اور کوئی جگہ نہیں۔وہی ہے جس نے ابتدا میں تھوڑے سے احمدیوں کو اٹھایا اور اس حد تک ترقی دی اور وہی ہے جو اب ہمیں دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھتے ہوئے اور ترقیات عطا کرے گا اور اور بڑھائے گا۔إِنْشَاءَ اللَّهُ تَعَالٰی۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ خصوصیت سے دعائیں کریں۔جو دوست نمازوں میں دعائیں کرنے میں سست ہیں وہ اب نمازوں میں بہت دعائیں کریں اور جو نمازوں میں پہلے ہی خوب دعائیں کرتے ہیں وہ دوسرے اوقات میں بھی کریں نہیں