خطبات محمود (جلد 22) — Page 394
* 1941 395 خطبات محمود جانتا ہے کہ میرا خدا مجھے چھوڑے گا نہیں اور جو خدا تعالیٰ کا اس طرح ہو جاتا ہے کہ سمجھتا ہے کہ میرا خدا مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا اسے اپنی کسی طاقت یا قابلیت پر گھمنڈ نہیں ہوتا۔بلکہ اس کا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے اور عسر و لیسر، ترقی و کمزوری اور عزت و ذلت ہر حالت میں اسے یقین ہوتا ہے کہ میرا خدا مجھے ضائع نہیں کرے گا۔وہی مومن کہلانے کا مستحق ہوتا ہے اور اسی کا نام ایمان ہے جو سمجھتا ہے کہ میرا خدا مجھ پر مہربان ہے اور کہ میں نے اس کی بھیجی ہوئی صداقت کو قبول کر لیا ہے اور یہ کبھی ہو نہیں سکتا کہ میرا خدا مجھے ضائع کر دے۔اگر خدا تعالیٰ نے لئے کوئی مشکلات پیدا کی ہیں تو یہ میری کسی غلطی کی چھوٹی سی سزا دینے یا میرے ایمان کے امتحان کے لئے ہے اور یا پھر دشمن کو جھوٹی خوشی دکھانے کے امید لئے تا اس کی ناکامی اور بھی بھیانک نظر آئے کیونکہ جب انسان کو کامیابی کی ہو اور پھر اسے ناکامی ہو تو یہ ناکامی بہت زیادہ بھیانک ہوا کرتی ہے۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ کبھی کبھی کسی کام کے دوران کافروں کو جھوٹی خوشی بھی دکھا دیتا ہے تا وہ اپنی کامیابی کی امید باندھ لیں اور بعد میں انہیں ناکام کر دیتا ہے اور اس طرح ان کی ناکامی ان کے لئے بہت رنج وہ ہو جاتی ہے۔جس طرح کسی شخص کا کوئی عزیز سخت بیمار ہو اور بیچ میں اس کی صحت کی امید پیدا ہو جائے مگر بعد میں مر جائے تو زیادہ صدمہ ہوتا ہے۔بعض سخت بیمار موت سے تھوڑا عرصہ قبل کچھ تندرست نظر آنے لگتے ہیں۔جسے ہمارے ملک میں سنبھالا کہتے ہیں۔بعض ناواقف اس سنبھالے کو دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں کہ ہمارا عزیز تندرست ہو رہا ہے مگر جب یکدم موت واقع ہو جاتی ہے تو صدمہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔یہی سلوک اللہ تعالیٰ کا کفار سے ہوتا ہے۔کبھی وہ ان کو جھوٹی خوشی دکھاتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں ہم کامیاب ہو جائیں گے اور وہ کامیابی کے سرے پر پہنچ بھی جاتے ہیں مگر وہاں پہنچ کر اللہ تعالیٰ ان کی ذلت، ان کی زک اور ان کی شکست کے سامان پیدا کر دیتا ہے اور ایسی حالت میں ان کو اپنی شکست اس سے بہت زیادہ بھیانک نظر آتی ہے جتنی کہ وہ دراصل ہوتی ہے