خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 393

* 1941 394 خطبات محمود ترقیات عطا کرتا ہے اور سہولتیں بہم پہنچاتا ہے۔یہ سہولتیں نتائج کے لحاظ سے ہوتی ہیں۔ورنہ قربانیاں تو ان کو دوسروں سے زیادہ کرنی پڑتی ہیں اور قربانیاں زیادہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ تھوڑے ہوتے ہیں اور ان کے مخالفین زیادہ ہوتے ہیں۔انہیں اس لئے زیادہ قربانیاں نہیں کرنی پڑتیں کہ ان کی قربانیوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا بلکہ اس لئے کہ وہ تھوڑے ہوتے ہیں اور ان کے مقابل پر زیادہ طاقت خرچ ہو رہی ہوتی ہے۔پس اللہ تعالی نتائج کے لحاظ سے ان کے لئے سہولت بہم پہنچاتا ہے اور ان کے کاموں میں برکت دیتا ہے اور اس حد تک ان کو ترقیات عطا کرتا ہے کہ ان کو ھ کر بھی دشمن کے دل میں حسد اور جلن پیدا ہونے لگتی۔ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی جیسا کہ میں نے بتایا ہے مومنوں کے لئے بھی مشکلات کے وقت آتے ہیں۔ایسے وقت کبھی تو اللہ تعالٰی مومنوں کے امتحان کے لئے لاتا ہے اور کبھی دشمنوں کو ایک جھوٹی خوشی دکھانے کے لئے مومنوں کو تکلیف میں ڈالتا ہے اور ایسے ہی وقت میں مومن اور منافق میں امتیاز ہو جاتا ہے۔و من صرف کامیابیوں کی امید کے وقت میں ہی قربانیاں نہیں کرتے بلکہ اس وقت بھی کرتے ہیں جب بظاہر حالات کامیابی کی کوئی امید نہیں ہوتی۔مگر منافق کی یہ حالت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب تو راحت اور آسائش کا سامان ہو تو وہ آگے ہوتا ہے مگر جب رنج یا تکلیف کا موقع آئے تو اس کی یہ کیفیت ہو جاتی ہے کہ ڈر کے مارے اس طرح پیچھے ہٹ جاتا ہے جیسے سامنے موت کھڑی ہے۔چونکہ وہ مومنوں کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے اس لئے مومنوں کی خوشیاں اسے بھی میسر آتی ہیں۔مگر مصیبت کے وقت میں اس کے اور مومن کے درمیان امتیاز ہو جاتا ہے۔ومن کی تو یہ حالت ہوتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کامیابیاں آئیں تو وہ خوش ہوتا ہوتا ہے۔اس لئے نہیں کہ اس کی کسی کوشش کا نتیجہ نکلا بلکہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فضل کیا ہے۔مگر جب مشکلات کا وقت آئے تو بھی وہ مایوس نہیں ہوتا کیونکہ وہ