خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 388

* 1941 389 خطبات محمود سبق حاصل کرنا چاہئے۔مجھے ایک احمدی دوست کی بات بہت پیاری معلوم ہوئی۔اگرچہ انہوں نے کی تو غلطی ہی تھی اور مجھ پر بدظنی کی۔جب عزیزم ناصر احمد یورپ سے آخری بار واپس آنے سے پہلے ایک بار چھٹیوں میں یہاں آئے۔تو اتفاقاً یا شاید ارادتاً چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب بھی ملاقات کے خیال سے قادیان آ رہے تھے۔یہاں سے میں موٹر پر استقبال کے لئے امر تسر گیا تھا۔وہاں میں نے کسی دوست سے کہا کہ ٹکٹ لے آؤ۔چوہدری صاحب نے کہا کہ میرے سیلون میں بیٹھ جائیں۔میں نے کہا کہ ہمارے لئے اس میں بیٹھنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔انہوں نے غالباً یہ جواب دیا که قانون یہ ہے کہ اگر کوئی ہمارا مہمان ہو تو اس کے لئے فرسٹ کلاس کا ٹکٹ خرید کر اسے سیلون میں بٹھایا جا سکتا ہے۔خیر ہم سیلون میں بیٹھ گئے۔جب میں قادیان پہنچا اور گھر جانے لگا تو امرت سر کے ایک دوست نے کہا کہ میں ایک بات کرنا چاہتا ہوں اور الگ ہو کر کہنے لگے کہ میں نے یہ دو ٹکٹ خرید لئے تھے (ایک میرے لئے ایک پرائیویٹ سیکرٹری کے لئے) اس خیال سے کہ شاید آپ کو ٹکٹ خریدنے کا خیال نہیں رہا۔آپ سیلون میں بیٹھ گئے تھے اور میں نے سمجھا کہ اس میں بغیر ٹکٹ کے بیٹھنا آپ کے لئے جائز نہیں اور ٹکٹ خریدنے کا آپ کو خیال نہیں رہا۔اس لئے میں نے یہ دو ٹکٹ خرید لئے تھے۔ان کے خریدے ہوئے ٹکٹ ضائع ہی نے گئے کیونکہ چوہدری صاحب نے ہمارا کرایہ ادا کر دیا تھا مگر اس دوست کی یہ بات بہت پسند آئی کہ انہوں نے یہ بھی گوارا نہ کیا کہ مجھ سے بھولے سے بھی بغیر ٹکٹ کے سفر کرنے کی غلطی ہو۔یہ احمدیت کا سچا نمونہ ہے اور یہی نمونہ ہمارے نوجوانوں کو پیش کرنا چاہئے۔پس اچھی طرح یاد رکھو کہ کبھی بغیر ٹکٹ کے سفر نہ کرو اور کبھی کسی کو بغیر ٹکٹ کے سفر کرتا دیکھ کر خاموش نہ رہو بلکہ اسے نصیحت کرو اور اگر وہ نصیحت پر بھی عمل نہ کرے تو سمجھ لو کہ وہ بیمار ہے اور متعدی بیمار ہے۔ایسے لڑکے کی صحبت سے الگ رہو۔اگر تم اسے دوست کہتے ہو تو گویا اپنی بھی مجھے