خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 387

* 1941 388 خطبات محمود کام کی عادت ڈالی جائے۔مسلمانوں میں کام کرنے کی عادت بھی نہیں رہی اور ان کے امراء ایسی جھوٹی عزت کے خیال میں پڑ گئے ہیں کہ اٹھ کر پانی پینا بھی دوبھر معلوم ہوتا ہے۔اسی لئے تحریک جدید میں یہ بات میں نے رکھی ہے کہ کوشش کی جائے دوستوں میں ہاتھ سے کام کرنے کی عادت پیدا ہو۔معاملات کی صفائی بھی بہت ضروری ہے اور اس کی آزمائش کا بھی یہ ایک موقع آیا ہے۔بعض لوگ بغیر کرایہ ادا کئے اور ٹکٹ لئے ریل میں سفر کر لیتے ہیں۔یاد رکھنا چاہئے کہ یہ بات ایمان کے سراسر خلاف ہے۔مومن کبھی بد معاملہ نہیں ہوتا۔ہے۔خیال کرنا کہ انگریزوں کی چوری کرنے میں کوئی حرج نہیں بالکل غلط خیال ریز چھوڑ کالے چور کا مال کھانا بھی جائز نہیں۔مومن کو معاملات کا بہت کھرا ہونا چاہئے۔ہم لوگ اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلو و السلام کی طرف منسوب کرتے ہیں۔آپ کا عملی نمونہ ہمارے سامنے ہے جس سے انسان کو زیادہ محبت ہو ہے۔اس کی طرف سے زیادہ نصیحت کا وہ محتاج نہیں ہوتا بلکہ اس کے نمونہ کو دیکھتا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جماعت کے بعض دوست داڑھی منڈواتے تھے کسی نے حضور علیہ السلام سے شکایت کی کہ فلاں شخص داڑھی منڈواتا ہے آپ نے فرمایا کہ اگر تو ان میں اخلاص نہیں تو ہماری نصیحت کا ان پر کیا اثر ہو سکتا ہے اور اگر اخلاص ہے تو ہماری داڑھی کو دیکھ کر خود ہی داڑھی رکھ لیں گے۔تو اصل بات یہی ہے کہ جس سے محبت ہو اُس کا نمونہ ہی کافی ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود السلام کے پاس کوئی احمدی آیا کسی نے آپ کو بتایا کہ یہ بغیر ٹکٹ کے آ گئے ہیں۔یہ ہمارے ملک میں ایک عام رواج ہے۔بغیر ٹکٹ کے سفر کرنا ایک کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔جیسے چیتے کا شکار کر لیا اسی طرح بغیر ٹکٹ کے سفر کر لیا۔حضرت مسیح موعود الصلوۃ و السلام نے جب یہ بات سنی تو جیب سے ایک روپیہ نکال کر اسے دیا اور فرمایا کہ کسی کا مال استعمال کرنا گناہ ہے۔آپ اب واپس جائیں تو اس روپیہ سے خرید لیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا یہ طریق ہے جس سے ہمیں علیہ ٹکٹ