خطبات محمود (جلد 22) — Page 354
خطبات محمود جاتا ہے۔355 * 1941 تعلق رکھتے ہیں اور قرآن کریم کی بعض آیات بے موقع سنا سنا کر اپنے رحیم کریم ہونے کا استدلال کرتے ہیں اور اپنی اس بے غیرتی اور بے حیائی کو چھپانا چاہتے ہیں۔مگر ایسے لوگ ہر گز مومن نہیں ہوتے بلکہ یہ بے شرمی اور بے غیرتی ہے۔گو ایسے لوگ ایمان کے کتنے دعوے کریں مگر وہ ہرگز مومن نہیں ہوتے۔اسی طرح جو لوگ جوش میں آکر قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں وہ بھی مومن نہیں بلکہ وحشی اور نافرمان ہیں۔کامل مومن وہی ہے جس کا دل ہر ایسی بات کو سن کر غیرت میں بھر۔مگر خدا تعالیٰ کے حکم کو سامنے رکھ کر وہ چپ ہو جاتا ہے۔اور خدا تعالیٰ سے اپیل کرتا ہے کہ مجھے جوش تو بہت آتا ہے مگر چونکہ تیرا حکم ہے کہ اپنے جوش کو بند رکھو۔اس لئے میں اسے بند رکھتا ہوں۔تو خود ان دشمنوں سے انتقام لے۔ایسے ہی مومن کے لئے خدا تعالیٰ غیرت دکھاتا ہے اور کیا تم سمجھتے ہو کہ خدا تعالیٰ سے زیادہ غیرت کوئی انسان دکھا سکتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ غیرت نہیں دکھاتا تو اس کی دو وجوہ ہو سکتی ہیں۔ایک تو یہ کہ ہمارے اندر غیرت نہیں ہوتی۔اس لئے خدا تعالیٰ بھی غیرت نہیں دکھاتا یا پھر ہمارے اندر جھوٹی غیرت ہوتی اور اس کی وجہ سے ہم قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔رسول کریم صلی ایم کی مجلس میں ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت ابو بکر کو بُرا بھلا کہنا شروع کیا۔آپ خاموش رہے۔وہ شخص دیر تک آپ کو بُرا کہتا رہا۔آخر آپ نے جواب دیا۔اس پر رسول کریم صلی الم نے فرمایا۔اب تک تو فرشتے آپ کی طرف سے جواب دے رہے تھے لیکن اب جو آپ نے خود جواب دینا شروع کر دیا۔تو میں نے دیکھا کہ فرشتے یہ کہتے ہوئے آسمان کو واپس جا رہے تھے کہ اب یہ خود جواب دینے لگ گیا ہے اب ہماری یہاں ضرورت نہیں۔9 تو اللہ تعالیٰ کی غیرت یا تو ایسے بے غیرتوں کے لئے نہیں بھڑکتی جو اصل میں شعائر اللہ اور دین کے ساتھ ہنسی کرنے والوں کے خلاف سچی غیرت نہیں رکھتے اور یا ان لوگوں کے لئے نہیں بھڑکتی جو ایسے جو شیلے ہوں کہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ سے بھی بڑا غیرت مند ظاہر کرنا چاہیں۔کہتے ہیں ہے