خطبات محمود (جلد 22) — Page 350
* 1941 351 خطبات محمود الگ گرایا۔اس لڑائی کے دوران میری تلوار اور نیزہ سے ڈر کر پیچھے نہ ہٹے مگر میرے تھوک دینے سے مجھے چھوڑ کر الگ ہو گئے۔یہ بات کیا ہے؟ حضرت علی نے جواب دیا کہ اصل بات یہ ہے کہ جب تم نے میرے منہ پر تھوکا تو مجھے غصہ آگیا اور میں نے سمجھا کہ اس غصہ کی حالت میں اگر میں نے تم کو مار دیا تو میں خدا تعالیٰ کا گنہگار ہوں گا کیونکہ اس کے معنے یہ ہوں گے کہ میں نے غصہ کی وجہ سے اپنے دشمن کو قتل کر دیا۔حالانکہ میں یہاں اس لئے لڑنے نہیں آیا کہ تم سے میری کوئی ذاتی دشمنی ہے بلکہ اس لئے آیا ہوں کہ تم خدا تعالیٰ کے دشمن ہو اور اس کے دین کو مٹانا چاہتے ہو اور اگر ذاتی غصہ کی حالت میں میں تمہیں قتل کر دیتا تو بجائے مجاہد بننے کے قاتل ٹھہرتا۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس وقت تک تم سے رہوں جب تک کہ میرا غصہ دور ہو کر عقل کا توازن درست ہو جائے اور میری ساری خواہشات خدا تعالیٰ کے تابع ہو جائیں۔دیکھو دونوں کو ایک سے حالات پیش آئے۔دونوں کو غصہ آیا۔ایک نے تو لڑائی ہی اس غصہ کی وجہ وجہ سے اور دوسرے نے غصہ کی حالت میں لڑائی بند کر دی اور نیچے گرائے ہوئے دشمن کو چھوڑ کر الگ ہو گیا حتی کہ غصہ دور ہو کر خدا تعالیٰ کے لئے لڑائی کرنے کی حالت پیدا ہو جائے۔غرض ایک ہی کام اگر اشتعال کے ماتحت کیا جائے تو انسان نیکی سے محروم ہو جاتا ہے اور وہی اگر اشتعال سے الگ ہو کر کیا جائے تو نیکی بن جاتا ہے پھر اس سے بھی اعلیٰ مدارج ہوتے ہیں وہاں نفس کو اور بھی دبانا پڑتا ہے حتی کہ ان کاموں میں نفس کا کوئی دخل ہی نہیں رہتا اور وہ خالص دین ہی دین ہو جاتے ہیں۔ہم میں سے بعض لوگ ہیں کہ جب ان کو غصہ آتا ہے تو اشتعال کی وجہ سے ان کا دل چاہتا ہے کہ دشمن کو پیس ہی ڈالیں وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں بھی یہی کرتے ہیں کہ ہمارے مخالفوں کو مار ڈال، پیس دے، ان کا بیڑہ غرق کر ان کا کچھ بھی باقی نہ رہنے دے اور وہ اپنے دل میں سمجھتے ہیں کہ ہم دین کے لئے و اور