خطبات محمود (جلد 22) — Page 338
* 1941 339 خطبات محمود ایک خواب سنائی تھی جس میں امریکہ سے ہوائی جہاز بھیجے جانے کا ذکر تھا۔وہ کہنے لگے ہاں مجھے یاد ہے مگر تعداد صحیح ثابت نہیں ہوئی۔تم نے تو 28 سو ہوائی جہاز بتائے تھے مگر تار میں 25 سو ہوائی جہازوں کا ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ انہوں نے تار کو جلدی میں صحیح طور پر نہ پڑھا اور اٹھائیس سو کو پچیس سو سمجھ لیا۔معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان پر اس خواب کے متعلق اتمام حجت کرنا چاہتا تھا۔چنانچہ انہوں نے کہا تم نے تو کہا تھا کہ امریکہ اٹھائیس سو ہوائی جہاز بھیجے گا مگر تار میں تو چھپیں سو ہوائی جہاز بھیجے جانے کا ذکر ہے۔چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ میں نے انہیں کہا کہ آپ تار کو دوبارہ نکال کر پڑھیں۔چنانچہ انہوں نے دوبارہ تار پڑھی تو کہنے لگے حیرت انگیز بات ہے واقع میں اٹھائیس سو ہوائی جہاز دیئے جانے کی خبر ہے۔تو دیکھو قریب قریب کے اہم واقعات ہیں جن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت امور غیبیہ کا مجھ پر اظہار فرمایا۔اسی طرح ابھی گزشتہ دنوں میں سندھ میں تھا کہ مجھے انگریزی میں ایک الہام ہوا جس کا مفہوم یہ تھا کہ انگریزی فوج کی صف توڑ کر جر من فوج اندر داخل ہو گئی ہے۔دوسرے ہی دن میں نے میاں بشیر احمد صاحب کو بھی ایک خط میں اس خواب کی اطلاع دے دی اور غالباً چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو بھی خواب لکھ دی۔اس کے بعد یہ خبر آگئی جو ریڈیو پر ہم نے خود بھی سن لی کہ طبرق کے مقام پر انگریزی صفوں کو چیر کر جرمن فوج آگے بڑھ گئی ہے۔تو میری ایک سال کی خواہیں ہی اگر جمع کر لی جائیں تو وہ مولوی محمد علی صاحب کی ساری عمر کی خوابوں سے بڑھ جائیں گی۔پھر یہ وہ خوابیں ہیں جن کے گواہ صرف احمدی ہی نہیں بلکہ غیر احمدی بھی ہیں ، ہندو بھی ہیں، سکھ بھی ہیں، عیسائی بھی ہیں۔غرض قسم قسم کے گواہ ان خوابوں کی تصدیق کرنے والے مل سکتے ہیں اور وہ شہادت دے سکتے ہیں کہ ان کو قبل از وقت یہ باتیں بتائی گئیں اور پھر اسی طرح پوری ہوئیں جس طرح انہیں بتایا گیا تھا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔“میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے