خطبات محمود (جلد 22) — Page 322
* 1941 323 خطبات محمود تھا کہ غرض اسی طرح وہ ایک کے بعد دوسرے اور دوسرے کے بعد تیسرے کے پاس پانی لے گیا اور ہر ایک نے یہ کہہ کر پانی پینے سے انکار کر دیا کہ پہلے دوسرے کو پلاؤ۔جب وہ آخری شخص کے پاس پہنچا تو وہ فوت ہو چکا تھا اور جب واپس پانی لے کر لوٹا تو سب کے سب فوت ہو چکے تھے۔3 یہ تغیر بھی ہماری سمجھ میں آ سکتا ہے کہ ایک ایسا شدید دشمن جس نے فتح مکہ رسول کریم صلى الله ل رل مل کے ساتھ لڑائیاں کیں اور جس نے مسلمانوں کے غلبہ کی وجہ سے مکہ میں رہنا بھی برداشت نہ کیا وہ آخر رسول کریم صلی الم کا فدائی اور غلام بن گیا۔یہ سب کچھ ممکن ہے اور یہ تغیر انسانی سمجھ میں آ سکتا ہے بلکہ اس تغیر کے وہ خود بھی قائل تھے۔چنانچہ عمرو ابن العاص جب اسلام کے عاشق ہوئے اس وقت انہیں یاد تھا کہ ایک زمانہ میں وہ سخت مخالف رہ چکے ہیں۔خالد کو آخری زمانہ تک یاد زمانہ میں انہوں نے اسلام کی بڑی دشمنی کی ہے۔عکرمہ کو آخری عمر تک یاد تھا کہ وہ اسلام کی کیسی کیسی مخالفتیں کرتے رہے ہیں بلکہ ان کی قربانیوں کا باعث ہی یہی تھا کہ وہ سمجھتے تھے اب مجھے پہلے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہئے مگر یہ تغیر سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک جماعت کی جماعت پہلے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو نبی اور رسول کہتی رہی ہو اور پھر وہ یہ کہنے لگ جائے کہ اس نے آپ کو نبی اور رسول نہیں کہا۔اگر وہ یہ کہہ دیتے کہ پہلے ہم بے شک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کو اللہ تعالیٰ کا نبی اور رسول سمجھتے تھے مگر یہ ہماری غلطی تھی اب ہمیں معلوم ہو گیا کہ آپ نبی اور رسول نہیں تھے تو ہمارے لئے اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں تھی۔جیسے خالد نے کہا کہ میں پہلے اسلام کا دشمن تھا اور میں مسلمانوں کے خلاف لڑتا رہا تھا مگر یہ میری غلطی تھی اب میں آپ پر ایمان لاتا ہوں یا جیسے عکرمہ نے کہا کہ میں رسول کریم صلی العلم بے شک مخالفت کرتا تھا مگر اب مجھ پر اپنی غلطی واضح ہو گئی ہے۔لیکن دنیا میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کسی نے اتنی شدت اور اتنی کثرت کے ساتھ نبی اور رسول کہنے کے بعد یہ کہہ دیا ہو کہ ہم نے کبھی