خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 288

* 1941 خطبات محمود کہ 289 نہیں کر سکتا۔پھر یہ کس طرح تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ ایک شخص کی زبان تو خدا کی زبان ہو گئی مگر وہ سارا سال اپنی زبان سے جھوٹا وعدہ کرتا رہایا اس کے ہاتھ تو خدا تعالیٰ کے ہاتھ بن گئے مگر وہ ہمیشہ شل اور مفلوج رہے اور کبھی انہیں توفیق وہ اپنے وعدہ کے پورا کرنے کے لئے آگے بڑھتے۔یہ ناممکن اور قطی طور پر ناممکن ہے اور اگر کسی شخص کے اندر یہ بات پائی جاتی ہے تو اس کے متعلق سوائے اس کے اور کیا سمجھا جا سکتا ہے کہ اس کا یہ دعویٰ کہ اس کی زبان خدا کی زبان ہے، اس کے ہاتھ خدا کے ہاتھ ہیں اور اس کے پاؤں خدا کے پاؤں ہیں محض جھوٹ ہے۔اگر اس کی زبان خدا کی زبان ہوتی تو وہ کوشش کرتا کہ اپنے وعدہ کو وقت پر پورا کرے۔کیونکہ خدا کی زبان جھوٹی نہیں ہو سکتی اور اگر اس کے ہاتھ خدا کے ہاتھ ہوتے تو وہ کبھی دین کے کاموں میں حصہ لینے کے موقع پر شل نہ ہو جاتے۔کیونکہ خدا کے ہاتھ مغلول نہیں ہوتے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ یہود ہنسی کے طور پر کہا کرتے تھے کہ کیا خدا کے ہاتھ شل ہیں او روہ مغلول ہے کہ ہم سے چندہ طلب کرتا ہے۔قرآن کریم اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ خدا کے ہاتھ شل نہیں بلکہ تمہارے اپنے ہاتھ شل ہیں کیونکہ اگر تم سمجھتے کہ ہمارا دینا خدا کا دینا ہے تو تم خوشی سے چندے دیتے لیکن جب تم اپنے دل میں انقباض محسوس کرتے ہو تو معلوم ہوا کہ تمہارا ہاتھ خدا کا ہاتھ نہیں اور جب تمہارا ہاتھ خدا کا ہاتھ نہیں تو تمہارے اپنے ہاتھ مفلوج ہوئے نہ کہ خدا کے ہاتھ۔4 پس میں ان تمام دوستوں کو جنہوں نے تحریک جدید کا چندہ ادا کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے تو جہ دلاتا ہوں کہ اگر وہ اپنے چندہ کو مئی میں ادا نہیں کر سکے تو اب اس کی ادائیگی کا فکر کریں کیونکہ انسان کی نیکی اور تقویٰ کا معیار یہ ہوتا ہے کہ ہے کہ جب اس سے اس سے کوئی غفلت یا سستی ہو جائے یا بعض مجبوریوں کی وجہ سے کسی نیک تحریک میں جلد حصہ نہ لے سکے تو وہ نیکی کو اور بڑھا کر کرتا ہے تاکہ اس کی غلطی اور شستی کا کفارہ ہو جائے۔دنیا میں کئی مجبوریاں بھی گناہ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اور بسا اوقات دل پر