خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 283

* 1941 284 خطبات محمود اسی طرح مضبوط جسم میں سے جب جان نکلتی ہے تو بڑی مشکل سے نکلتی ہے ہے جیسے پتھر میں سے کیلا نکالنا مشکل ہوتا ہے لیکن کمزور جسم میں سے آسانی کے ساتھ نکل جاتی ہے۔اسی حقیقت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ وہ انسان جس کے دل میں دنیا کی محبت ہو اس کی جان سخت تکلیف سے نکلتی ہے۔لیکن دوسری طرف وہ لوگ جو دنیا کی خیر خواہی میں گھل رہے ہوتے ہیں ان کی جان بھی مشکل سے نکلتی ہے۔جو لوگ دنیا کی محبت میں گھل رہے ہوتے ہیں ان کی جان تو اس لئے مشکل سے نکلتی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں ہمیں جو چیز سب سے زیادہ پیاری تھی اب وہ ہمارے ہاتھ سے چھوٹ رہی ہے اور انبیاء کی جان اس لئے تکلیف سے نکلتی ہے کہ ان کے دل و دماغ پر اس وقت یہ خیال غالب ہوتا ہے کہ لوگ بغیر نگرانی کے رہ جائیں گے معلوم نہیں بعد میں ان کا کیا حال ہو اور وہ چاہتے ہیں کہ بنی نوع انسان میں کچھ اور مدت رہیں۔اس لئے نہیں کہ وہ مزے اڑائیں بلکہ اس لئے کہ لوگ نیک بن جائیں۔پس دنیا کو چھوڑنا دونوں کے لئے ہی تکلیف دہ ہوتا ہے مگر ایک روح تو اس لئے تکلیف محسوس کرتی ہے کہ وہ دنیا کے عیش اور آرام سے حظ اٹھانا چاہتی ہے اور دوسرے کی روح اس لئے تکلیف محسوس کرتی ہے کہ لوگ بغیر نگرانی کے رہ جائیں گے۔پس بظاہر دونوں کو ہی تکلیف ہوتی ہے اور ایک نادان اور احمق انسان جو نہیں جانتا کہ یہ تکلیف کیوں ہوتی ہے یا وہ جسے حقائق کا تجربہ نہیں ہوتا، خیال کرتا ہے کہ شاید ایمان کی کمی کی وجہ سے یہ تکلیف ہو رہی ہے مگر جب اس کی عقل تجربہ سے راہنمائی حاصل کر لیتی ہے تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ جان کنی کی تکلیف کی کئی وجوہ ہوتی ہیں۔کبھی ایک نیک شخص جان کنی کی تکلیف اٹھاتا ہے اور بد جان کنی کی تکلیف نہیں اٹھاتا ہے اور کبھی بد جان کنی کی تکلیف اٹھاتا ہے اور نیک جان کنی کی تکلیف نہیں اٹھاتا۔اور اس کی وجہ وہی ہوتی ہے جو میں بیان کر چکا ہوں کہ ایک کا جسم مضبوط ہوتا ہے اور دوسرے کا کمزور اور کمزور جسم میں سے آسانی کے ساتھ جان نکل جاتی ہے لیکن مضبوط جسم میں سے آسانی کے ساتھ جان نہیں نکلتی۔مثلاً