خطبات محمود (جلد 22) — Page 270
خطبات محمود 271 * 1941 اور مثلاً پیشگوئیاں ہیں کسی پیشگوئی کے کسی حصہ کا پتہ نہ بھی لگے تو کوئی حرج نہیں ! نہ ان پر جب تک سمجھ نہ آئے ایمان لانا ضروری ہے۔اس لئے آپ نے استعارے استعمال فرمائے حقیقت کا اظہار نہیں فرمایا۔لیکن ایمان کے ساتھ تعلق رکھنے والی کسی بات میں آپ نے ایسا نہیں کیا۔اگر کہیں استعارہ استعمال فرمایا ہے تو دوسری جگہ اس کی وضاحت بھی فرما دی۔مثلاً جہاں حضرت مسیح کے آسمان سے آنے کا ذکر فرمایا وہاں اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ 4 فرما کر اس طرف توجہ دلا دی کہ وہ آنے والا مسیح تم میں سے ہی ہو گا۔یعنی امت محمدیہ کا فرد ہو گا اور اس طرح مِنْكُمْ فرما کر اس بات کو حل کر دیا مگر مسیح موعود کے لئے آپ نے مجدد یا محدث کا لفظ کبھی استعمال السلام نہیں فرمایا۔اس کے بعد ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کلام بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ آپ نبی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ اپنے ابتدائی زمانہ کا ایک الہام بیان فرماتے ہیں کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔5 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اس الہام دو قراء تیں ہیں۔ایک یہ کہ دنیا میں ایک نذیر آیا اور دوسری کہ دنیا میں ایک نبی آیا۔6 گویا اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کلام ابتدا ہی میں اس طرح شروع کرتا ہے کہ دنیا میں ایک نذیر اور نبی آیا۔نذیر کا لفظ بھی قرآن کریم میں جہاں استعمال ہوا ہے نبی کے معنوں میں ہی ہوا ہے۔اس لئے نذیر کے لفظ سے کوئی شبہ پیدا نہیں ہو سکتا۔پھر تذکرہ نکال کر دیکھو کہ کتنی جگہ آپ کے الہامات آپ کے لئے مجدد یا محدث کا لفظ ہے؟ اور کتنی جگہ نبی اور رسول کا؟ یہ صحیح ہے کہ ہر نبی محدث بھی ہوتا ہے۔جیسے ایم۔اے، بی۔اے بھی ہوتا ہے۔ہم کے متعلق کہہ سکتے ہیں کہ جب اس نے بی۔اے پاس کیا تھا بلکہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جب وہ مدرسہ میں داخل ہوا تھا۔مگر اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ