خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 23

$1941 23 خطبات محمود اپنے دل میں قبض محسوس کرتا ہے اور قربانی کرنے سے ہچکچاتا ہے اور لئے ایک تکلیف اور دکھ سمجھتا ہے تو ایسا انسان در حقیقت خدا تعالیٰ کی فوج میں ہے شامل نہیں اور نہ اسے ایمان حاصل ہے۔اس کو اُسی وقت ایمان میسر آ جب آخری نتیجہ ظاہر ہو۔مگر رسول کریم صلی ام فرماتے ہیں لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ اگر فتح آگئی تو اس کے بعد جو شخص ایمان لائے گا اسے اس ہجرت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے قرب کے اعلیٰ مراتب حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ہجرت صرف مدینہ کی ہجرت کا نام نہیں بلکہ ہجرت اپنے اندر اور مفہوم بھی رکھتی ہے چنانچہ رسول کریم صلی الله فرماتے ہیں مَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللّهِ وَ رَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ 24 کوئی انسان ایسا بھی ہوتا ہے جو خدا اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرتا پس اُس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہی ہے۔تو ہجرت صرف مدینہ کی ہجرت کا نام نہیں، ہجرت صرف قادیان کی ہجرت کا نام نہیں بلکہ ہجرت نام ہے تمام دنیوی علائق سے آزاد ہو کر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دینے کا۔اس وقف کے معنے نہیں کہ انسان تجارت چھوڑ دے یا زراعت چھوڑ دے یا ملازمت چھوڑ دے۔ایک حصہ کے لئے یہ بھی ضروری ہے مگر باقیوں کے لئے نہیں۔ان کا وقف وہی ہو گا جس کا اس آیت میں ذکر آتا ہے کہ مِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ 5 کہ کئی تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے کلیة وقف کر دیا ہے اور انہوں نے تمام کام چھوڑ کر خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا ہے اور کوئی ایسا بھی ہے جو مَنْ يَنْتَظِرُ کے ماتحت ہے۔وہ سودا بیچ رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے اب آدھ سیر ہو گیا ہے مگر اُس کے کان اِس طرف لگے ہوئے ہوتے ہیں کہ کب خدا کی آواز آتی ہے۔وہ دال تول کر گاہک کی جھولی میں ڈال رہا ہوتا ہے اور اُس کے کان اس بات کے منتظر ہوتے ہیں کہ کب خدا تعالیٰ کی آواز آتی ہے تا میں اپنا مال اور اپنی جان اس کی راہ میں قربان کر دوں۔