خطبات محمود (جلد 22) — Page 122
$1941 122 خطبات محمود انہوں نے کسی سے خیرات مانگی تو اس نے ایک پیسہ دے دیا اور کہا کہ چاروں مل کر کوئی چیز کھا لو۔اب ایک نے کہا میں تو انگور کھاؤں گا ، دوسرا کہنے لگا کہ میں تو داکھ کھاؤں گا، تیسرا کہنے لگا کہ میری خواہش تو عِنَب کھانے کی کی ہے اور چوتھا ترکی تھا اس نے اپنی زبان میں کوئی انہی الفاظ کے ہم معنی لفظ کہا اور کہا کہ میری تو خواہش وہ چیز کھانے کی ہے۔اب چاروں آپس میں لڑنے لگ گئے ایک کہے کہ دو گھنٹے مانگ مانگ کر ایک پیسہ ملا ہے اس سے تو میں انگور ہی کھاؤں گا، دوسرے نے کہا میں تو عِنَب کھاؤں گا تیسرے نے داکھ پر زور دیا اور چوتھے نے اپنی زبان کا کوئی لفظ استعمال کیا۔آخر وہاں سے کوئی زبان دان گزرا اور اس نے ان چاروں کو جو لڑتے دیکھا تو ٹھہر گیا اور پوچھا کہ کیوں لڑ رہے ہو۔انہوں نے بتایا کہ ہماری لڑائی کی یہ وجہ ہے۔اس نے کہا پیسہ تم مجھے دے دو میں تم سب کے لئے ایک ایسی چیز لاؤں گا جس سے تم سب خوش ہو جاؤ گے۔چنانچہ انہوں نے اسے پیسہ دے دیا اور وہ انگور لے آیا۔عنب مانگنے والا کہنے لگا یہی میرا مطلب تھا۔داکھ چاہنے والا کہہ اٹھا یہی تو میں مانگتا تھا اور ترکی کہنے لگا میری بھی یہی خواہش تھی۔غرض چاروں خوش ہو گئے اور ان کی لڑائی ختم ہو گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ان جھگڑوں کو ایسا مٹایا ہے کہ اب کسی احمدی کے دل میں خیال بھی نہیں آتا کہ آمین بالجہر کہنی چاہئے یا آمین بالسر، ہاتھ اوپر باندھنے چاہئیں یا نیچے ، رفع یدین کرنا چاہئے یا نہیں کرنا چاہئے۔آپ نے ایک اصول لوگوں کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا کہ یہ بھی ٹھیک ہے اور وہ بھی ٹھیک ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام سے ایک دفعہ کسی نے ان مسائل کے بارہ میں پوچھا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے انبیاء حکمت سے کلام کیا کرتے ہیں۔کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی طبائع میں جوش ہوتا ہے۔ان کا جوش جب نکلتا نہ رہے ان میں استقلال پیدا نہیں ہو سکتا اور کئی لوگ خاموش طبیعت ہوتے ہیں وہ اگر اظہار جذبات کرنے لگ جائیں تو ان کا جوش مدھم پڑ جاتا ہے۔