خطبات محمود (جلد 22) — Page 98
$1941 98 خطبات محمود ان باتوں کو چھوڑنا ایسا ہی ہے جیسے طاعون میں گرفتار ہونا۔آخر وجہ کیا ہے کہ ایک چور مل جاتا ہے تو وہ دوسرے کے دل میں چوری کی محبت پیدا کر دیتا ایک جھوٹا اور کذاب انسان مل جاتا ہے تو وہ دوسرے کو جھوٹ اور کذب بیانی کی عادت ڈال دیتا ہے ایک سست اور غافل انسان کسی دوسرے کے پاس رہتا ہے تو اسے بھی اپنی طرح سست اور غافل بنا دیتا ہے۔اگر ان بدیوں کے مرتکب اثر پیدا کر لیتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ کارکنوں کے دلوں میں سوز اور گداز پیدا ہو جائے اور وہ اخلاق کی اہمیت کو سمجھ جائیں۔تو بچوں میں سچ بولنے کی عادت پیدا نہ کر سکیں، ان میں محنت کی عادت پیدا نہ کر سکیں اور کیوں بچے ان اخلاق فاضلہ سے دوری کو ایک عذاب سمجھنے لگیں۔اگر متواتر طالب علموں کو بتایا جائے کہ جھوٹ بولنا ایک عذاب ہے اور ایسا ہی ہے جیسے طاعون یا ہیضہ میں مبتلا ہو جانا۔اگر متواتر طالب علموں کو بتایا جائے کہ سستی اور غفلت ایک عذاب ہے اور ایسا ہی ہے جیسے طاعون یا ہیضہ میں گرفتار ہونا یا بھڑکتی ہوئی آگ میں گر جانا۔اسی طرح تمام اخلاق فاضلہ ان کے ذہن نشین کرائے جائیں تو کیا وجہ ہے کہ ان میں بیداری پیدا نہ ہو اور وہ صحیح اسلامی اخلاق کا نمونہ نہ بنیں۔مگر اس کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ طالب علموں کے سامنے متواتر لیکچر دیئے جائیں اور انہیں بتایا جائے کہ جھوٹ کیا ہوتا ہے؟ سچ کیا ہوتا ہے؟ سچ بولنے کے کیا فوائد ہیں؟ اور جھوٹ بولنے کے کیا نقصانات ہیں؟ میرے نزدیک سو میں سے توے انسان یہ سمجھتے ہی نہیں کہ سچ کیا ہوتا ہے۔یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ جتنا زیادہ کسی بات کو دہرایا جائے اتنا ہی لوگ اس کو کم سمجھتے ہیں۔تم کسی شخص سے پوچھو حتٰی کہ کسی گاؤں کے رہنے والے شخص سے بھی دریافت کرو کہ سنیما کیا ہوتا ہے تو وہ ضرور اس کی کچھ نہ کچھ تشریح کر دے گا۔لیکن اگر تم اس سے پوچھو کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ کی کیا تشریح ہے کو تم نے کیوں مانا ہے تو وہ ہنس کر کہہ دے گا کہ یہ باتیں مولویوں سے دریافت کریں۔آخر یہ فرق کیوں ہے؟ اور کیوں وہ سنیما کی تشریح تو کسی قدر کر سکتا اسلام ہے