خطبات محمود (جلد 22) — Page 9
1941ء 9 خطبات محمود ہے۔ وہ اصل مجرم نہیں ہیں اس لئے ہم ان سے مایوس نہیں۔ اور اگر پوری توجہ سے تبلیغ میں لگ جائیں تو ضرور ان کو ہدایت ہو سکتی ہے۔ پس اس سال کے لئے جماعت کا بڑا مقدم کام یہی ہے کہ خصوصیت سے ان لوگوں میں تبلیغ کی جائے۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی خیال رکھیں کہ دوسری تحریکیں نظر انداز نہ ہوں ہماری عمریں بہت گزر چکی ہیں اور تھوڑی باقی ہیں۔ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اپنی زندگیوں میں احمدیت کو کم سے کم ہندوستان میں مضبوط حالت میں قائم شدہ دیکھ سکیں۔ ہر د ملیں۔ ہر دن اور ہر رات ہمیں موت سے قریب کرتی جا رہی ہے اور صحابیوں کے بعد جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو دیکھا یہ کام تابعین کے ہاتھ میں اور پھر ان کے بعد تبع تابعین کے ہاتھوں میں جائے گا۔ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ آئندہ احمدی ہونے والے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کو نہیں دیکھا وہ یہ تو کہہ سکیں کہ ہم نے آپ کے دیکھنے والوں کو دیکھا یا یہ کہ آپ کے دیکھنے والوں کے دیکھنے والوں کو دیکھا۔ پس جن لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا ان کی زندگیاں بہت قیمتی ہیں اور جتنا کام وہ کر سکتے ہیں دوسرے نہیں کر سکتے۔ اس لئے ان کو کوشش کرنی چاہئے کہ مرنے سے قبل احمدیت کو مضبوط کر دیں تا دنیا کو معلوم ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ نے ایسی محنت سے کام کیا کہ احمدیت کو دنیا میں پھیلا کر مرے۔ اگر جماعتیں اس طرف پوری طرح متوجہ ہوں تو چند سال میں ہی دنیا میں تغیر عظیم پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں عنقریب تفسیر کبیر کی پہلی جلد کا کام شروع کرنے والا ہوں۔ احباب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی روکوں کو دور کر کے اس کی تکمیل کی توفیق عطا فرمائے اور دنیا کی ہدایت کا موجب بنائے۔ چونکہ جمعہ کی نماز کے بعد مہمانوں نے جاتا ہے بارش بھی ہو رہی ہے اور نمازیں جمع ہونی ہیں اس لئے میں اسی پر خطبہ کو الفضل 14 جنوری 1941ء) ختم کرتا ہوں۔ ” وو