خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 84

* 1941 84 خطبات محمود لطیف ہو گا جیسے خواب میں انسان کو ایک لطیف جسم ملتا ہے۔خواب کا جسم تو ایسا لطیف ہوتا ہے کہ انسان تو یہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ وہ ہزاروں کا مقابلہ کر رہا ہے یا دریا میں تیر رہا ہے یا پہاڑوں سے گزر رہا ہے یا بڑے بڑے ہاتھیوں اور گھوڑوں کو وہ ایک چیپت رسید کرتا ہے اور وہ تمام اس کے مطیع اور فرمانبر دار ہو جاتے ہیں۔مگر اس کے پاس لیٹی ہوئی بیوی اور اس کے بچے ان نظاروں میں سے کوئی نظارہ بھی نہیں دیکھ رہے ہوتے۔یہ تو دیکھ رہا ہوتا ہے کہ میں ہزاروں انسانوں کے ساتھ لڑ رہا ہوں اور وہ یہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ اس کے ناک پر لکھی بھن بھن کر رہی ہے اور یہ اسے اڑا بھی نہیں سکتا۔یہ تو دیکھتا ہے کہ میں سفر کر کے ہزاروں میل دور نکل گیا ہوں اور یہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ اس نے ایک کروٹ تک نہیں بدلی۔پس وہ جسم جو انسان کو خواب میں ملتا ہے ایک روحانی جسم ہوتا ہے جسے وہ خود تو دیکھ رہا ہوتا ہے مگر اس کے بیوی بچوں کو نظر نہیں آتا کیونکہ انسان کی مادی آنکھیں صرف کثیف جسم دیکھنے کی طاقت رکھتی ہیں۔اسی وجہ سے جن باتوں کو ایک ہے سے سنتا خواب دیکھنے والا شخص اپنی روحانی آنکھوں سے دیکھتا یا اپنے روحانی کانوں انہیں جسمانی آنکھیں نہیں دیکھتیں اور نہ جسمانی کان ان باتوں کو سن سکتے ہیں۔پس وہ ایک جسم تو ہوتا ہے مگر اس جسم سے بہت اعلیٰ۔اور وہ ان آنکھوں سے نظر نہیں آسکتا۔پھر صرف خواب پر ہی منحصر نہیں اس دنیا میں بھی اس قسم کی کئی چیزیں پائی جاتی ہیں مثلاً میں نے اس وقت عینک لگائی ہوئی ہے۔اگر اس عینک کے شیشہ میں سے میں ایک سلائی گزاروں تو وہ نہیں گزرے گی مگر میری آنکھ کی بینائی اس میں سے گزر رہی ہے اور مجھے پتہ بھی نہیں چلتا کہ میری آنکھوں اور لوگوں کے درمیان کوئی چیز حائل ہے۔پس باوجود اس کے کہ میری آنکھوں اور لوگوں کے درمیان ایک روک حائل ہے۔اور 1/10 یا 1/12 انچ کا شیشہ آنکھ کے سامنے ہے میں سب کو دیکھ رہا ہوں۔حالانکہ بظاہر چاہئے یہ تھا کہ مجھے اس روک