خطبات محمود (جلد 22) — Page 83
1941ء 83 خطبات محمود بلکہ خواب میں اس روح کو ایک نیا جسم مل جاتا ہے اور روح اس جسم کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ مثلاً جب تم خواب میں دیکھتے ہو کہ تم لاہور جا رہے ہو یا خواب میں دیکھتے ہو کہ تم ہوا میں اڑ رہے ہو یا خواب میں دیکھتے ہو کہ تم دریا میں تیر رہے ہو یا خواب میں دیکھتے ہو کہ تم کسی دور دراز کے سفر پر جا رہے ہو یا خواب میں دیکھتے ہو کہ تم کوئی چیز کھا رہے ہو تو اس وقت تمہارا جسم چار پائی پر ہی ہوتا ہے تم بے شک اپنے آپ کو دیکھتے ہو کہ تم دریا میں تیر رہے ہو لیکن تمہارا جسم اس وقت کسی دریا میں نہیں بلکہ چار پائی پر ہوتا ہے۔ اسی طرح تم بے شک دیکھتے ہو کہ تم سفر پر جا رہے ہو لیکن تمہارا جسم چار پائی پر ہی پڑا ہوا ہوتا ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب تم خواب میں اپنے آپ کو تیرتے دیکھتے ہو یا یہ دیکھتے ہو کہ تم کہیں سفر پر جا رہے ہو تو تم خالی روح نہیں دیکھتے بلکہ اپنے ساتھ اپنا ایک جسم بھی دیکھتے ہو۔ اسی طرح جب تم اپنے آپ کو ہوا میں اڑتے دیکھتے ہو تو اس وقت خالی روح نہیں ہوتی بلکہ ایک جسم کو بھی تم اپنے ساتھ دیکھتے ہو۔ اسی طرح خواب میں جب تم کوئی چیز کھاتے ہو یا کوئی چیز پیتے ہو یا کسی سے لڑتے ہوئے اپنے آپ کو دیکھتے ہو یا کسی سے صلح کرتے ہوئے اپنے آپ کو دیکھتے ہو تو تم اپنا ایک جسم بھی محسوس کرتے ہو۔ یہ نہیں ہوتا کہ صرف روح ہی ہو اور جسم اس کے ساتھ کوئی نہ ہو۔ پس وہ جسم ایک علیحدہ چیز ہوتا ہے تمہارا ظاہری جسم نہیں ہوتا کیونکہ یہ جسم تو اس وقت چار پائی پر پڑا ہوا ہوتا ہے اور یہ بالکل ناممکن ہے کہ ایک ہی جسم ایک وقت میں چارپائی پر بھی ہو اور دریا میں بھی تیر رہا ہو یا چار پائی پر بھی ہو اور پہاڑ کی چوٹی پر بھی ہو یا چار پائی پر بھی ہو اور دور دراز کا سفر بھی کر رہا ہو یا چار پائی پر پڑا سو بھی رہا ہو اور کسی سے لڑ جھگڑ بھی رہا ہو یا ایک ہی وقت میں تندرست بھی ہو اور بیمار بھی ہو۔ غرض وہ ایک نیا جسم ہوتا ہے جو روح کو ملتا ہے کیونکہ روح بغیر جسم کے نہیں رہ سکتی۔ اسی طرح مرنے کے بعد ہر شخص کو ایک نیا جسم ملے گا۔ وہاں خالی روح نہیں ہو گی بلکہ ایک جسم بھی اس کے ساتھ ہو گا اور وہ جسم وہ