خطبات محمود (جلد 22) — Page 701
* 1941 701 خطبات محمود تو ہم عبادت کر سکتے ہیں، تو ہمیں عبادت کے لئے اپنا وقت صرف کرنے کی توفیق دے تو ہم عبادت کر سکتے ہیں، تو ہمارے دل میں اپنی عبادت کا جوش پیدا کرے تو ہم عبادت کر سکتے ہیں۔ہم سے یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنی ذاتی جد و جہد سے تیری کامل عبادت کر سکیں۔پس ہم ایک ٹوٹی پھوٹی چیز تیرے سامنے پیش کرتے ہیں، اپنی کمزوریوں کے لحاظ سے اور اپنی مجبوریوں کے لحاظ سے اور اپنی کم فہمی کے لحاظ سے۔اگر تو اس کو اچھا دیکھنا چاہتا ہے، اگر تو اس کو خوبصورت دیکھنا چاہتا ہے اگر تُو ہماری عبادت کو کامل دیکھنا چاہتا ہے تو ہم سے تو ایسی ہی بن سکتی تھی باقی کام تو خود اپنے فضل سے سر انجام دے دے۔پس اس آیت میں بنی نوع انسان کو اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی گو خدا نے تم کو نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے، گو خدا نے تم کو روزے رکھنے کا حکم دیا ہے، گو خدا نے تم کو حج کرنے کا حکم دیا ہے، گو خدا نے تم کو صدقہ و خیرات کرنے کا حکم دیا ہے مگر یہ حکم اکیلے تم سے نبھنے کے نہیں۔یہ حکم تو ایسے ہی ہیں جیسے بعض دفعہ ماں باپ اپنے چھوٹے بچے سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ کرسی یہاں سے اٹھاؤ یا اس میز کو اٹھا کر فلاں جگہ رکھ دو۔وہ اپنے بچے کو یہ حکم اس لئے نہیں دیتے کہ وہ جانتے ہیں ان کا بچہ میز اٹھا سکتا ہے یا کرسی اٹھا سکتا ہے بلکہ وہ اپنے بچے کو میز یا کرسی اٹھانے کا حکم اس لئے دیتے ہیں کہ وہ اس سے ناز کرتے یا ناز کروانا چاہتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ جب بچہ میز یا کرسی کو ہاتھ لگائے گا اور وہ اس سے اٹھائی نہیں جا سکے گی تو وہ کہے گا کہ اماں میز مجھ سے اٹھایا نہیں جاتا تم اٹھا دو یا کرسی مجھ سے اٹھائی نہیں جاتی تم اٹھا دو۔یہی حال عبادت کا ہے۔بندہ عبادت کر ہی نہیں سکتا مگر اللہ تعالیٰ یہ کام اس کے سپرد کرتا ہے کیونکہ وہ اپنے بندہ سے پیار کرنا چاہتا ہے مگر جہاں بچے اپنی فطرت کے مطابق کام کرتے ہیں وہاں بڑے انسان بسا اوقات اپنی فطرتیں مار بیٹھتے ہیں اور عجیب عجیب قسم کے خیالات میں مبتلا ہو کر جو سیدھی سادی بات ہوتی ہے اسے بھول جاتے ہیں۔