خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 700 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 700

* 1941 700 (39 خطبات محمود جلسہ سالانہ پر آنے والے احباب کو ضروری ہدایات فرمودہ 26 دسمبر 1941ء) تشہد، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔" آجکل کے ایام سخت ابتلاؤں اور تکلیفوں کے دن ہیں۔ایک خطرناک جنگ دنیا کے پردہ پر لڑی جا رہی ہے اور ہزارہا آدمی جن کی ماؤں نے نو مہینے تکلیف اٹھا کر ان کو بڑی بڑی امیدوں کے ساتھ جنا تھا روزانہ سیکنڈوں اور منٹوں میں ہلاک کئے جا رہے ہیں۔وہ زمین جسے خدا تعالیٰ نے انسان کے بسنے اور بڑھنے کے لئے بنایا تھا وہ اب بھاگنے اور قتل ہونے کی جگہ بن گئی ہے اور وہ سمندر جس کو خدا تعالیٰ نے اس لئے بنایا تھا کہ اس کی مچھلیوں کو انسان کھائے اور انہیں اپنی خوراک بنائے آج انسان اس کی مچھلیوں کی خوراک بن رہے ہیں۔غرض انسانی گناہوں نے خدا تعالیٰ کی غیرت کو بھڑکا کر آج دنیا کا نقشہ بالکل بدل ڈالا ہے۔ان حالات میں جتنی بھی انسان خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرے کم ہے۔مگر یہ توجہ بھی خدا تعالیٰ کی توفیق ہی میسر آتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں سورہ فاتحہ میں اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِين 1 یعنی تم یہ کہو کہ اے ہمارے خدا ہم تیری عبادت کرتے ہیں۔مگر ہماری یہ عبادت کامل نہیں ہو سکتی، نہ ہماری محبت تجھ سے کامل ہو سکتی ہے، نہ شرائط عبادت ہمیں کامل طور پر میٹر آ سکتے ہیں اور نہ عبادت کے لئے ہم اپنا وقت صرف کر سکتے ہیں جب تک تیری مدد اور تیری نصرت ہمارے شامل حال نہ ہو۔تو ہمیں عبادت کی شرائط پورا کرنے کی توفیق دے