خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 696 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 696

1941ء 696 خطبات محمود یہ کرو۔ اس اونٹنی کے متعلق جو نَاقَةُ الله کا لفظ فرمایا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ ناقة خدا کے رسول کی ہے اور اسے تبلیغ کے سفر میں وہی اُٹھاتی ہے اور رسول، خدا تعالیٰ کی ناقة ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی ہدایت کو اُٹھائے پھرتا ہے۔ پس یہ ناقہ گویا خدا ہی کو اُٹھائے پھرتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اپنی زندگی کو خدا تعالیٰ کے سے ممتاز ہو لئے وقف کر دیتا ہے اور جو کام بھی کرتا ہے خدا کے لئے کرتا ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی ناقة بن جاتا ہے۔ جس طرح وہ اون اونٹنی دوسری اونٹنیوں گئی تھی۔ اسی طرح وہ دوسرے لوگوں سے ممتاز ہو جاتا ہے۔ اور جس طرح اس اونٹنی پر حملہ خدا تعالیٰ کی تلوار کے سامنے کھڑا ہونے کے مترادف تھا۔ اسی طرح اس انسان پر حملہ کرنے والا بھی خدا تعالیٰ کی تلوار کے سامنے ہوتا ہے۔جو اس پر حملہ کرتا ہے وہ گویا خدا تعالیٰ پر حملہ کرتا ہے۔ تو دیکھو چھوٹی سی نیت کے ساتھ کتنا بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔ پس یہاں کے دوست بھی جو خدمت کریں نیت کے ساتھ کریں۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ وقت میرا اپنا ہے۔ اِس میں سے پانچ دن میں خدا تعالیٰ کو تحفہ دیتا ہوں تو اِس نیت کے ساتھ وہ کون سا تیر مارے گا۔ لیکن اگر وہ یہ نیت کرے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے 365 دن دیئے تھے۔ میں نے غلطی کی کہ 360 اپنے لئے صرف کر لئے۔ اب پانچ باقی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرتا ہوں تو اس سے کتنا بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔ اس صورت میں انسان خدا تعالیٰ کو احسان نہیں جتا سکتا بلکہ اس کا دل شرمندگی سے بھرا ہوا ہو گا اور وہ اس خدمت کی توفیق ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرے گا۔ لیکن جو یہ سمجھے گا کہ میں اپنے وقت میں سے پانچ دن خدا تعالیٰ کو دیتا ہوں اس کا دل فخر اور تکبر سے بھرا ہو گا۔ پس جن دوستوں کو جلسہ کے موقع پر خدمت کا موقع ملنے والا ہے وہ بھی اپنی نیتوں کو درست کریں۔ جس خدمت کے لئے بھی وہ اپنے آپ کو پیش کریں یہ وہ کو ہیں یہ سمجھ کر کریں کہ یہ وقت ان کی چیز نہیں بلکہ خد اتعالیٰ کی ہے۔ میں نے غلطی کی