خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 679 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 679

1941ء 679 خطبات محمود اپنے گڑے میں چھیں بھر کر روانہ ہو اور انہیں کوئی شخص چرا کر لے جائے اور اسے پتہ نہ لگے۔ انہوں نے تحقیق کے بعد اس پر ہرجانہ ڈال دیا۔ مجھے یاد نہیں کہ اس پر کتنا ہر جانہ ڈالا گیا۔ شاید وہ چقیں اسی روپیہ کی تھیں اور اس پر نصف رقم ہرجانہ کے طور پر ڈالی گئی یا اس سے کم قیمت کی تھیں اور ان کی نصف رقم اس پر بطور ہرجانہ ڈالی گئی۔ وہ ایک گاؤں کا رہنے والا تھا جب اس پر یہ ڈنڈ پڑا تو اس کی بیوی میرے پاس شکایت لے کر آئی اور کہنے لگی کہ ہم پر بڑا ظلم ہوا ہے اتنی رقم ڈال دی گئی ہے۔ میں نے کہا کہ تم خود ہی سوچو کہ یہ کتنے اندھیر کی بات ہے کہ اتنی بڑی چیز جس سے گڑا بھرا ہوا تھا وہ رستہ میں ہی ہی گم ہو جائے۔ لازمی بات یہ ہے کہ یا تو اس نے خود وہ چقیں فروخت کر دی ہیں اور یا پھر وہ گڑا چھوڑ کر کہیں چلا گیا ہو گا اور کئی گھنٹے غائب رہا ہو گا بعد میں ان چقوں کو کئی افراد اٹھا کر لے گئے۔ اس صورت میں بھی تم پر ہی غفلت کا الزام آتا ہے۔ وہ کہنے لگی یہ بالکل غلط ہے۔ نہ اس نے چقیں فروخت کی ہیں اور نہ وہ گڑے کو چھوڑ کر کئی گھنٹے غائب رہا۔ وہ صرف پانی پینے کے لئے ایک کنوئیں پر گیا تھا دو منٹ کے بعد واپس آیا تو چقیں غائب تھیں۔ میں نے کہا یہ بات میری سمجھ میں نہیں آسکتی اور میں تمہاری سفارش وو 66 کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ اس پر اُس عورت نے جوش میں کہہ دیا “ تہاڈے احمدی ہی چور ہوندے ہیں، اُنہاں نے ہی چرائیاں ہیں ” یعنی احمدی ہی چور ہوتے ہیں اور انہوں نے ہی چقوں کو چُرایا ہو گا۔ اب باوجود اس کے کہ میں ایک عورت سے گفتگو کر رہا تھا اس وجہ سے کہ اس نے جماعت پر حملہ کیا تھا مجھے طیش آ گیا اور میں نے کہا مائی تم عورت ہو ورنہ میں اسی وقت تمہیں اپنے گھر سے نکلوا دیتا۔ خیر وہ چلی گئی مگر اس کے بعد مجھے اس فقرہ کا سخت صدمہ ہوا اور میں نے خیال کیا کہ گو اس عورت نے نادانی سے ایک بات کہی تھی مگر مجھے یہ فقرہ نہیں کہنا چاہئے تھا۔ چنانچہ بعد میں میں نے اس کی طرف اپنا ایک آدمی بھیجوایا اس سے معافی مانگی اور اسے کچھ روپیہ بھی دیا۔ اب اس غصہ کی وجہ یہی تھی کہ جماعت پر اس نے ناواجب حملہ