خطبات محمود (جلد 22) — Page 678
1941ء 678 خطبات محمود اپنے مد مقابل سے سختی کی ہے یا اس نے مجھ پر سختی کی ہے۔ بلکہ اگر لوگ چاہیں تو اس وقت بھی حالات کا مطالعہ کر کے فیصلہ کر سکتے ہیں۔ بہر حال میں اپنی طرف سے یہی کوشش کیا کرتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے مخالفوں کے متعلق کبھی سخت الفاظ استعمال نہ کئے جائیں۔ مگر دو چیزیں ہیں جن کو میرا نفس اس قدر برداشت نہیں کر سکتا جس قدر اپنی ذات کے متعلق اگر کوئی بات ہو تو میں برداشت کر لیا کرتا ہوں۔ ان میں سے ایک بات یہ ہے ہے کہ حضرت مسیح موع موعود علیہ الصلوة و السلام کے درجہ میں اگر کمی کی جائے تو قدرتاً اور مذہبی طور پر بھی میرے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کا مقابلہ کیا جائے۔ دوسری بات جو میرے لئے ناقابلِ برداشت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر جماعت احمدیہ پر بحیثیت جماعت کوئی شخص حملہ کرے تو اس کی برداشت میرے لئے مشکل ہو جاتی ہے۔ مجھے اپنی زندگی میں چند مواقع ہی ایسے پیش آئے ہیں جہاں ایسے معاملات میں مجھے جوش آیا ہے۔ ایک واقعہ تو اسی وقت یاد آگیا جو بہت پرانا ہے۔ جب ہمارا دفتر بن رہا تھا تو اس وقت اس کے لئے بہت سی چقیں منگوائی گئیں جو بانس کی کھیچیوں کی بنی ہوئی ہوتی ہیں۔ وہ چقیں بہت بھاری ہوتی ہیں اور اب بھی جس برآمدہ میں میں بیٹھا کرتا ہوں اس کے آگے پڑی ہوئی ہیں۔ وہ چقیں ایک گڑے میں بھر کر منگوائی گئی تھیں۔ جو شخص چقیں لانے کے لئے بھیجا گیا اس نے قادیان پہنچ کر رپورٹ کی کہ کسی نے راستہ میں چقیں پچرا لی ہیں۔ اب یہ ایک عجیب بات تھی اور ہمیں حیرت ہوئی کہ وہ چقیں چرائی کس طرح گئی ہیں۔ چھ فٹ کے قریب وہ چوڑی تھیں، لمبائی بھی ان کی بہت کافی تھی اور اونچائی تو اس قدر تھی کہ گڑا اُن سے بھرا ہوا تھا۔ ایسی حالت میں اگر دو بلکہ تین آدمی بھی ہاتھوں کو پھیلا کر انہیں اٹھانا چاہتے تو نہیں اٹھا سکتے تھے۔ پس یہ خیال کر لینا کہ ان چقوں کو کوئی شخص چرا کر لے گیا ہے کسی طرح صحیح معلوم نہیں ہوتا تھا۔ چنانچہ میں نے امور عامہ والوں سے کہا کہ اس معاملہ کی تحقیق کی جائے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص بٹالہ سے