خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 67

$1941 67 خطبات محمود نہیں کہتا کہ میں اپنے بیٹے سے اس وقت تک محبت نہیں کر سکتا جب تک اس کا پیٹ چیر کر یہ نہ دیکھ لوں کہ اس کا دل کہاں ہے اور جگر کہاں او رگر دے کہاں ہیں۔پھر خدا تعالیٰ سے محبت کرنے سے قبل کیوں اسے پھاڑ کر دیکھنا چاہتے ہو؟ اس کی شان و عظمت بالکل جدا گانہ ہے اور تمہاری یہ اہلیت اور قابلیت کہاں کہ اسے سمجھ سکو۔پس جس طرح ایک بھینس غالب کے اشعار کو نہیں سمجھ سکتی تم اس سے بھی کم اللہ تعالیٰ کے متعلق تفاصیل کو سمجھنے کے اہل ہو۔تمہیں تو بس یہی سمجھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کا تمہارے ساتھ کیا تعلق ہے وہ تم سے کس طرح خوش ہو سکتا ہے او رکس طرح ناراض۔بس اتنی ہی بات تمہارے کام کی ہے۔باقی سب باتیں لغو ہیں اور ان میں وقت ضائع کرنا بالکل بے فائدہ ہے۔اگر اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو توفیق دے اور وہ ان باتوں سے بچے تو ایسی مثال دنیا میں قائم کر سکتی ہے جو بے نظیر یاد گار ہو۔مگر کون کہہ سکتا ہے کہ جب جماعت ترقی کرے گی تو آئندہ نسلیں اس طرف نہ لگ جائیں گی کہ دنیا ک ہے کہاں سے ہے اور پید اکس طرح ہوئی ہے۔کم بختو! وہ کس طرح پیدا ہوئی ہے تمہیں یہ کیا فکر ہے؟ تم تو یہ فکر کرو کہ خد اتعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا ہے۔تو زندگی سے اچھے فوائد حاصل کرو۔ایسے لغو خیالات میں پڑنے والوں نے ہی پہلے مسلمانوں کو تباہ کیا ہے۔اس لئے ان کے خیالات سے بچو۔صرف ان باتوں کی طرف توجہ کرو جن کے نتیجہ میں روحانی یا مادی فوائد حاصل ہو سکیں۔دین کے علاوہ زراعت، تجارت اور صنعت و حرفت کی ترقی میں مدد مل سکے۔ان باتوں کی طرف توجہ کرنے کی تو قرآن کریم بار بار ہدایت کرتا ہے مگر لغو باتوں پر وقت ضائع کرنے سے روکتا ہے۔پس ہماری جماعت خصوصاً نوجوانوں کو یہ نقطہ نگاہ مضبوطی سے پکڑ لینا چاہئے کہ ایسی لغو بحثوں سے بچنا ضروری ہے۔میں نے دیکھا ہے آریوں کی کسی مجلس میں بیٹھے ایسی باتیں سنیں تو خود بھی اسی طرف لگ جاتے ہیں۔وہ بھی پاگل اور یہ بھی