خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 656 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 656

1941ء 656 خطبات محمود گو جلسہ کے لئے تو گندم خریدی جا چکی ہے لیکن اگر بارش نہ ہوئی تو ایسا قحط پڑنے کا اندیشہ ہے کہ ممکن ہے لوگ پچھلے سالوں کی طرح جلسہ پر نہ آ سکیں۔ پس دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ قحط کے سامان دور کرے۔ گورنمنٹ دھمکیاں تو بہت دیتی رہتی ہے کہ گندم مہنگی نہ کی جائے اور اس پر کنٹرول کے اعلان بھی کرتی رہتی ہے مگر عملاً کرتی کچھ نہیں۔ اس کی مثال بالکل اس بنٹے کی سی ہے جو لڑتے وقت کہتا ہے کہ اب تم گالی دے کر دیکھو میں پنسیری ماروں گا مگر مارتا کبھی نہیں۔ اسی طرح گورنمنٹ بھی دھمکی تو دے دیتی ہے مگر پھر خاموش ہو جاتی ہے۔ وہ قریباً ڈیڑھ ماہ سے بنیوں والی لڑائی لڑ رہی ہے۔ وہ دھمکی دیتی ہے کہ اب اگر بھاؤ بڑھا تو کنٹرول قائم کر دیا جائے گا مگر بیوپاری اور بڑھا دیتے ہیں اور وہ پھر خاموش ہو جاتی ہے۔ جب اس نے یہ دھمکیاں شروع کیں اُس وقت بھاؤ قریباً چار روپے نو آنے من تھا۔ مگر اب پانچ روپے پانچ آنے بلکہ اس سے بھی زیادہ چڑھ گیا ہے۔ بعض نادان زمیندار ممبروں نے اسمبلی میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ گندم مہنگی کی جائے اور وہ اس میں زمینداروں کا فائدہ سمجھتے ہیں مگر انہیں یہ شاید معلوم نہیں کہ آجکل کی مہنگائی کا فائدہ زمینداروں کو نہیں ہو سکتا بلکہ تاجروں کو ہوتا ہے۔ آجکل کس زمیندار کے گھر میں گندم ہوتی ہے؟ اس موسم میں تو بعض زمینداروں کے گھروں میں بیج کے لئے بھی گندم نہیں ہوتی اور زمیندار بے چاروں کی تو یہ حالت ہوتی ہے کہ ان کا غلہ نکلتا بعد میں ہے اور بک پہلے جاتا ہے۔ تاہم جیٹھ ہاڑ کی گرانی سے زمینداروں کو کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ آجکل کی گرانی کا فائدہ ان کو نہیں بلکہ تاجروں کو پہنچتا ہے۔ تاجروں کا یہ قاعدہ ہے کہ جب زمینداروں کے ہاں گندم ہوتی ہے اس وقت سستی خرید لیتے ہیں اور جب ان کے پاس نہ رہے تو مہنگی کر دیتے ہیں اور اس طرح لوگوں کو تنگ کرتے اور ملک کو خوب لوٹتے ہیں۔ پس دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ قحط کے آثار دور کر دے اور مالی مشکلات