خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 639 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 639

1941ء 639 خطبات محمود اور ان سے کہتا ہوں۔ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ 9 یعنی کیا مومنوں کے لئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ خدا کے ذکر کے لئے ان کے دل جھک جائیں۔ صوفیاء نے لکھا ہے کہ ایک بزرگ تھے جن کے ہمسایہ میں ایک سخت اوباش اور آوارہ مزاج امیر رہتا تھا۔ اس کی مجلس میں ہر وقت ناچ اور گانا بجانا ہوتا رہتا تھا۔ شراب نوشی کا دور بھی چلتا رہتا۔ چونکہ لوگوں کے اخلاق پر اس کا بہت برا اثر پڑ رہا تھا اس لئے انہوں نے اس امیر آدمی کو بارہا روکا مگر وہ اپنے فعل سے باز نہ آیا۔ ایک دن وہ کہتے ہیں میں مکہ کا حج کر رہا تھا کہ میں نے سامنے اسی امیر شخص کو دیکھا اور اس کے چہرے سے اس قدر انکسار اور فروتنی ظاہر ہو رہی تھی کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ روحانیت سے گداز ہو ، گداز ہو چکا ہے۔ چونکہ انہیں اس شخص سے جدا ہوئے مدت ہو چکی تھی اس لئے وہ اُس سے ملے اور کہنے لگے میں تم میں یہ کیا تبدیلی دیکھتا ہوں تم کو تو گانے والی لڑکیوں شراب نوشی کے دور اور رقص و سرود کی محفلوں میں بیٹھا ہونا چاہئے تھا اور میں تو سمجھتا تھا کہ تمہاری ہدایت بالکل ناممکن ہے کیونکہ میں نے تم کو بڑے بڑے وعظ کئے تھے۔ تمہیں خدا نے کس طرح ہدایت دے دی ؟ وہ کہنے لگا۔ آپ بالکل سچ کہتے ہیں مجھے آپ نے بھی وعظ کئے اور دوسرے واعظوں نے بھی مجھے بہت سمجھایا۔ مگر کسی وعظ کا مجھ پر اثر نہ ہوا۔ یہانتک کہ وہ سمجھا سمجھا کر تھک گئے۔ ایک دن میں اپنے کوٹھے پر بیٹھا تھا بزم طرب لگی ہوئی تھی۔ خوبصورت اور حسین عورتیں گانا گا رہی تھیں اور شراب کا دور چل رہا تھا کہ نہ معلوم خدا کا کونسا بندہ میرے لئے فرشتہ رحمت بن گیا۔ وہ میرے مکان کے قریب کی گلی میں سے گزر رہا تھا اور اور یہ یہ آیت پڑھتا جا تا تھا اکم يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ ارے مومنو! کیا وہ وقت نہیں آیا کہ تمہارے دل خدا تعالیٰ کے ذکر کے لئے جھک جائیں۔ جس وقت اس نے یہ آیت پڑھی مجھے یوں محسوس ہوا کہ یہ آیت ابھی نئے سرے سے نازل ہوئی ہے۔ یکدم میری چیخ نکل گئی۔ شراب کا گلاس میرے ہاتھ سے گر گیا اور میں توبہ کر کے نیک اعمال بجا لانے کی