خطبات محمود (جلد 22) — Page 624
خطبات محمود 624 1941ء چڑھنا چاہے اور یہ یہ وہ زمانہ ہے جس میں خدا نے خود آسمان سے رسی پھینکی ہی ہے اور اس نے لوگوں سے کہہ دیا ہے کہ بس رسی پکڑ لو میں فوراً تمہیں آسمان پر کھینچ لوں گا۔ پس اب بندے کا کام صرف اُس رستی کو ہاتھ ڈالنا ہے باقی تمام کام خدا تعالیٰ نے خود اپنے ذمہ لیا ہوا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کا زمانہ خاص برکات کا زمانہ ہوتا ہے اور جو قومیں اس زمانہ میں کو تاہی تاہی سے کام لیتی ہیں وہ خطرناک الزام کی مورد بن جاتی ہیں۔ ہمارا یہ زمانہ بھی وہی ہے جبکہ روحانی ترقی کی طرف قدم اٹھانے والا بہاؤ کی طرف تیرنے والے کا حکم رکھتا ہے کیونکہ اس وقت خدا تعالیٰ کا منشاء ہے کہ خاص طور پر روحانی حکومت قائم کی جائے اسی روحانی حکومت کے قیام کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنا مامور بھیجا ہے۔ اتنے لمبے انتظار کے بعد کہ دنیا اس کا انتظار کرتے کرتے تھک گئی تھی۔ رسول کریم صلی السلام کی وفات کے بعد لوگوں نے انتظار کرنا شروع کیا کہ اب مسیح آتا ہے، اب مسیح آتا ہے۔ جب بھی ان پر کوئی بلا آئی انہوں نے سمجھا کہ اس کو دور کرنے کے لئے مہدی اور مسیح آئے گا۔ جب بھی وہ کسی مصیبت میں پھنسے ان کی نظریں اس امید کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھیں کہ شاید ہمیں اس مصیبت سے نکالنے کے لئے مسیح آ جائے لیکن خدا نے اس نعمت کو تمہارے زمانہ کے لئے مقدر کیا ہوا تھا۔ پس یہ کتنا عظیم الشان فضل ہے کہ بغیر اس کے کہ ہماری طرف سے کوئی کوشش ہو بغیر اس کے کہ ہمارا کوئی استحقاق ہو اللہ تعالیٰ نے اس نعمت کو ہم میں نازل کیا جس طرح تمام دنیا محمد صلی علیم کی آمد کی منتظر تھی مگر اس شدید انتظار کے بعد عرب کے لوگوں کو یہ نعمت عطا کی گئی اور یہودی اس حسد کی وجہ سے جل اٹھے کہ یہ نعمت انہیں کیوں ملی ہمیں کیوں نہیں ملی۔ حالانکہ یہ خدا کی دین تھی اور وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کے فضل نے ہم میں وہ شخص بھیجا جس کے زمانہ کا انبیاء تک شوق سے انتظار کرتے چلے آئے تھے۔ دوسروں کا کیا کہنا ہے خود رسول کریم صلی علیم کے شوق کو دیکھو۔ آپ فرماتے ہیں۔ اگر تمہیں مہدی