خطبات محمود (جلد 22) — Page 622
* 1941 622 خطبات محمود اسی وقت میسر آئے گی جب وہ قید سے آزاد ہو جائے گا۔اسی طرح صدقہ و خیرات سے مرنے والے کو جو فائدہ پہنچتا ہے وہ عارضی ہوتا ہے۔مستقل فائدہ اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ قریبی رشتہ دار جن سے وہ وابستہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے قرب میں اس سے زیادہ ترقی کر جائیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب کوئی شخص اس طرح میرے قرب کو حاصل کر لے تو بشر طیکہ اس کے ماں باپ اور دوسرے رشتہ دار مومن ہوں ان کو بھی جنت میں ترقی دے دی جائے گی اور ان کو اسی مقام پر رکھا جائے گا جس مقام پر وہ ہے۔روحانی ترقیات کے حصول کے متعلق ہمیں قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دو دُور ہوتے ہیں۔ایک انفرادی ترقی کا دور ہوتا ہے اور ایک دور وہ ہوتا ہے جب بندے کے ارادہ سے خدا تعالیٰ کا ارادہ مل جاتا ہے۔جب انسان کی جد و جہد منفرد حیثیت رکھتی ہے اور انفرادی ترقی کا دور ہوتا ہے اس وقت اگر کوئی شخص کوشش کرتا ہے تو وہ اپنی کوشش کے مطابق ترقی تو کر لیتا ہے اور اس کی کوششوں کا پھل بھی اسے مل جاتا ہے مگر اُس وقت اس کی کوششیں ایسی ہوتی ہیں جیسے دریا کے بہاؤ کے خلاف کوئی تیرنے کی کوشش کرے۔تم سمجھ سکتے ہو کہ جب کوئی شخص دریا کے بہاؤ کے خلاف تیرنے کی کوشش کرے گا اور اُدھر جانا چاہے گا جدھر سے پانی آ رہا ہو گا تو اسے کتنی مشکل در پیش آئے گی۔اسی طرح انفرادی ترقی سخت محنت چاہتی ہے اور اس کے نتیجہ میں جو فائدہ حاصل ہوتا ہے وہ بہت معمولی ہوتا ہے۔لیکن ایک دور وہ ہوتا ہے جب خدا یہ فیصلہ کر دیتا ہے کہ وہ دنیا کو بڑھائے اور اسے ترقی دے۔اُس وقت جو شخص روحانی دریا میں تیرتا ہے اس کے تیرنے اور اس شخص کے تیرنے میں جو بہاؤ کے خلاف تیرتا ہے کوئی نسبت ہی نہیں ہوتی۔جب کوئی شخص دریا کے بہاؤ کے خلاف تیرے گا تو خواہ وہ کتنا بڑا تیراک ہو گھنٹہ بھر میں سو دو سو گز سے زیادہ تیر نہیں سکے گا۔لیکن اگر کوئی شخص بہاؤ کے رُخ پر تیرے تو وہ گھنٹہ بھر میں دو تین میل نکل جائے گا۔اسی طرح جب بندے کے ارادے سے خدا تعالیٰ کا ارادہ مل جاتا ہے اُس وقت اس کی