خطبات محمود (جلد 22) — Page 619
1941ء 619 خطبات محمود یہودیوں کے ان مظالم کو بیان کرتے ہوئے جو وہ رسول کریم صلی الم پر کیا کرتے تھے فرمایا ہے کہ دیکھو! ہم نے پہلے سے تمہیں خبر دے دی تھی کہ ایک ایسا انسان دنیا میں پیدا ہونے والا ہے کہ اگر تم اسے مارو گے تو تم سارے جہان کو مارنے والے قرار پاؤ گے۔ کیونکہ تمام دنیا کی نجات اور بھلائی اس سے وابستہ ہو گی۔ پس فرماتا ہے محمد صل السلام کے خلاف جو تمہاری کوششیں ہیں وہ ایسی نہیں کہ صرف ایک فرد کے می خلاف ہوں بلکہ تم ان کوششوں کے ذریعہ سارے عرب کو مار رہے ہو، سارے ایران کو مار رہے ہو، سارے عراق کو مار رہے ہو، سارے ایشیا کو مار رہے ہو، سارے افریقہ کو مار رہے ہو، سارے یورپ کو مار رہے ہو کیونکہ دنیا کی روحانی زندگی محمد صلی العلیم سے وابستہ ہے۔ پس تمہاری دشمنی اس سے نہیں بلکہ سارے جہان سے ہے۔ غرض ہر ایک جو ترقی کرتا ہے اس کے ظرف اور اس کی کوشش کے مطابق اس کے متعلقین بھی ترقی کرتے ہیں اور ہر ایک جو گرتا ہے اور اس کے گرنے سے اس کے متعلقین بھی گرتے ہیں مگر یہ صرف جسمانی طور پر ہے۔ اُخروی زندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس طرح نہیں ہوتا کہ ایک شخص کے گرنے سے اس کے آباء اور رشتہ داروں کو بھی نقصان پہنچ جائے۔ مثلاً یہ نہیں ہو گا کہ کوئی شخص بڑا کافر ہو تو اس کی اولاد بھی اگر وہ کافر ہو اسی کے برابر عذاب پائے لیکن ایک کی ترقی سے دوسروں کو فائدہ ضرور پہنچے گا اور یہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ اگر ایک انسان خود اچھا ہو تو اس کے ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں کو بھی اس کا فائدہ ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ جو لوگ اعلیٰ درجہ کے روحانی مقامات رکھنے والے ہوں گے۔ خدا تعالیٰ ان کے ماں باپ اور بیوی بچوں کو بھی اگر وہ مومن ہوں ان کے پاس ہی رکھے گا۔ 3 حالانکہ ان کے عمل تھوڑے ہوں گے۔ اب دیکھو جو شخص اپنی زندگی میں اچھے اعمال بجالاتا ہے وہ ان اعمال سے صرف