خطبات محمود (جلد 22) — Page 617
* 1941 617 خطبات محمود تم اپنے دل میں وہ بیج لگاؤ جس کے نتیجہ میں نوح کے ثمر پیدا ہوں، تم اپنے دل میں وہ بیج لگاؤ جس کے نتیجہ میں ابراہیم کے ثمر پیدا ہوں، تم اپنے دل میں وہ بیج لگاؤ جس کے نتیجہ میں موسیٰ کے ثمر پیدا ہوں، تم اپنے دل میں وہ بیج لگاؤ جس کے میں عیسی کے ثمر پیدا ہوں پھر تمہاری دعا کامیاب ہو دگی، اور تب تم ان انعامات کو حاصل کر سکو گے جو پہلے لوگوں نے حاصل کئے۔مگر باقی جگہوں پر تو تم ہمیشہ عقل اور ہوش سے کام لیتے ہو اور اچھا بیج بونے کی کوشش کرتے ہو مگر یہاں یہ کرتے ہو کہ بد دلی کے ساتھ منہ سے صرف یہ الفاظ نکال دیتے ہو کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اور اس انعام یافتہ گروہ کے نقش قدم پر چلنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔گویا بیج تو تم وہ ہوتے ہو جو نہایت رڈی قسم کا ہے اور امید یہ کرتے ہو کہ اس سے اچھا پھل پیدا ہو۔حالانکہ اچھے پھل کے حصول کے لئے یہ نہایت ضروری ہوتا ہے کہ عمدہ بیج ہو اور پھر اس بیچ کے نشو و نما کے لئے جو سامان اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہوں ان سے کام لے کر اس پیج کو بڑھایا جائے کیونکہ خدا نے ایک ہی قانون بنایا ہے کہ جو حسین چیز پیدا ہو اسے اگر ترقی دی جائے تو وہ بڑھتی چلی جاتی ہے اور اگر اس کی ترقی کے لئے کوئی کوشش نہ کی جائے تو وہ چیز اپنے معیار پر قائم نہیں رہتی بلکہ گر جاتی ہے۔مثلاً میں یہ نہیں سمجھتا کہ اس زمانہ میں جو اچھی گندم یا اچھی کپاس ہے وہ گزشتہ ترقی یافتہ گندم اور کپاس سے ضرور بہتر ہے بلکہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ جس طرح کسی زمانہ میں انسان اچھے ہوتے ہیں مگر پھر بُرے ہو جاتے ہیں اسی طرح جانوروں اور کھیتوں وغیرہ کا حال ہے۔کسی وقت قوم میں بیداری ہوتی ہے تو وہ مثلاً گھوڑے کی نسل کو ترقی دینے کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گھوڑے کی نسل بہت اعلیٰ جاتی ہے مگر پھر جب اس قوم پر جمود طاری ہو جاتا ہے اور وہ اپنی بیداری کو ترک کر دیتی ہے تو ترقی یافتہ نسل تنزل کی طرف پھر جاتی ہے۔ہندوستان کے ہی کئی علاقے ایسے ہیں جہاں کے گھوڑے بہت مشہور تھے۔مگر اب ان علاقوں کو یہ شہرت