خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 611 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 611

* 1941 611 خطبات محمود آپس میں یہ باتیں کرتے نظر آئیں گے کہ آٹھ الف گندم بونی ہے، 591 بونی ہے، 518 بونی ہے۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر اچھا بیج زمین میں ڈالیں گے تو پیداوار زیادہ ہو ہو گی، دانہ اچھا ہو گا اور آٹا زیادہ نکل سکے گا۔اسی طرح گنا ہے۔ہمارا گنے کے لئے خاص طور پر مشہور ہے حالانکہ یہ میرے اپنے ہوش کی بات ہے کہ بالعموم یہاں ایسا گنا ہوتا تھا کہ اس میں اور سرکنڈے میں کوئی زیادہ فرق محسوس نہیں ہوتا تھا۔نہایت باریک اور سخت گنا ہوتا تھا اور جب بچپن میں ہم اسے چوستے تھے تو چوستے وقت ہمارے ہونٹوں اور زبان پر زخم ہو جاتے تھے مگر دیکھ لو اب اس گنے میں ہی کتنی ترقی ہوئی ہے۔جب گنے کے بیج کی حفاظت کی گئی اور اسے بڑھایا گیا تو نہایت اعلیٰ قسم کے گئے پیدا ہونے شروع ہو گئے اور پیداوار بھی آگے سے بہت بڑھ گئی۔اسی طرح کپاس ہے۔اس میں بھی زراعت والوں نے بہت ترقی کی ہے۔پھلوں اور پھولوں کو دیکھا جائے تو انہیں بھی ترقی دے کر کہاں سے کہاں پہنچا دیا گیا ہے۔یہی چھوٹے چھوٹے گٹھلیوں والے آم جنہیں لوگ چوستے پھرتے ہیں جو پیسے پیسے دو دو پیسے سیر مل جاتے ہیں انہی کو ترقی دے کر کوئی لنگڑا نکل آیا ، کوئی فجری نکل آیا ہے کوئی دوسیری نکل آیا ہے، کوئی بمبئی نکل آیا ہے۔غرض قسم قسم کے آم ایجاد کر لئے گئے ہیں اور ابھی ان کو اور زیادہ بڑھایا جا رہا ہے اور ترقی یافتہ آموں میں سے اور آم پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پھولوں کو ہی دیکھ لو۔ہمارے ملک میں پہلے ایک ہی گلاب کا سرخ پھول ہوا کرتا تھا مگر اب بیسیوں قسم کے پھول نکل آئے ہیں۔کوئی گلاب کا سیاہ رنگ کا پھول ہے، کوئی گلاب کا زرد رنگ کا پھول ہے۔اسی طرح کوئی سفید رنگ کا گلاب ہے اور کوئی کاسنی رنگ کا گلاب ہے۔پھر کوئی چھوٹے حجم کا ہے اور کوئی اتنے بڑے حجم کا ہے کہ پرانے زمانہ کے کئی کئی پھول اس میں آ جاتے ہیں۔اسی طرح گائیوں، بیلوں، بکریوں اور مرغیوں کی نسلوں کو دیکھ لو۔وہ کیسی ترقی کر رہی ہیں اور کس طرح انسان نے کوشش کر کے ان کو پہلے سے زیادہ اعلیٰ بنا دیا ہے اور اس ساری ترقی کا گر ہے