خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 545

* 1941 545 خطبات محمود اس قدر صدمہ ہے کہ گویا اس کی گردن پر تلوار رکھ کر کسی نے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک اسے کاٹ دیا ہے۔جب لوگوں کے ایمان نہ لانے کا رسول کریم صلی اللہ ہم کو اس قدر افسوس تھا تو ان کا کفر کی حالت میں مر جانا آپ پر کس قدر گراں گزرتا ہو گا۔جو شخص صرف اس بات سے ہی صدمہ محسوس کرتا ہے کہ ایک شخص خدا تعالیٰ ایمان نہیں لایا۔اس کے دل پر اس وقت کیا گزرتی ہو گی جب اسے یہ معلوم پر ہوتا ہو گا کہ اب کفر پر اس کا خاتمہ بھی ہو گیا ہے۔۔تو جو چیز دنیا کو مکروہ نظر آتی ہے وہی چیز رسول کریم صلی ا ہم اور آپ کے صحابہ کے چہرہ کو ایسا حسین ثابت کرتی ہے کہ ان کے صدقہ و خیرات سے ان کا اتنا حسن ظاہر نہیں ہوتا جتنا لڑائیوں سے ان کا حسن ظاہر ہوتا ہے۔صدقہ و خیرات کرتے وقت ہر انسان کے دل میں رحم کا جذبہ پیدا ہوتا ہے مگر انتقام کے جذبہ کی موجودگی میں اور پھر اس انتقامی جذبہ کو پورا کرنے والے تمام سامانوں کی موجودگی میں دل میں اتنی رافت، رحمت اور نرمی کا پیدا ہونا سوائے خدا رسیدہ اور ولی اللہ انسان کے اور کسی سے ممکن نہیں۔ہم نے تو دیکھا ہے دنیا میں ایک شخص دوسرے کو تھپڑ مار دے تو دوسرا جواب میں اسے دس تھپڑ مار کر بھی خوش نہیں ہوتا اور سال سال تک دل میں اس کے متعلق کینہ رکھتا چلا جاتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص دوسرے کے متعلق سخت لفظ استعمال کر دے تو میں نے دیکھا ہے کہ دوسرا شخص جھٹ میرے پاس اس کی شکایت پہنچا دیتا ہے اور شکایت کرتے کرتے پندرہ میں گالیاں اسے دے دیتا ہے کہ وہ ایسا خبیث، ایسا بے دین اور ایسا مرتد ہے مگر ساتھ ہی لکھتا ہے کہ میں تو اسے کچھ نہیں کہتا۔اللہ ہی ہے جو اس سے بدلہ لے۔گویا دس بیس گالیاں دینے کے باوجود پھر بھی اس کی تسلی نہیں ہوتی اور وہ مجھے لکھتا ہے کہ آپ چونکہ خلیفہ ہیں۔اس لئے آپ کا فرض ہے کہ اسے سزا دیں اور پھر لکھ دیتا ہے کہ میں نے تو اسے کچھ بھی نہیں کہا۔خدا ہی ہے جو اس سے بدلہ لے۔تو دنیا میں بسا اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے قصوروں پر لوگ اتنا غصہ