خطبات محمود (جلد 22) — Page 544
* 1941 544 خطبات محمود الله سة پھیلایا۔مگر ہم تو ان لڑائیوں پر جتنا غور کرتے ہیں اتنی ہی آپ کی عظمت اور بڑائی ظاہر ہوتی ہے۔قرآن کریم میں ہی اللہ تعالیٰ صحابہ کے متعلق فرماتا ہے۔وَهُوَ كُرُةٌ لكُمْ جب لڑائی کا انہیں حکم دیا گیا تو وہ انہیں بہت ہی گراں گزرا۔اس لئے نہیں کہ وہ اپنی جان دینے سے گھبراتے تھے بلکہ اس لئے کہ وہ دوسروں کی جان لینے سے گھبراتے تھے۔حالانکہ وہ کفار جن سے انہیں لڑنے کا حکم ملا۔اتنے شدید دشمن تھے کہ انہوں نے متواتر تیرہ سال تک رسول کریم صلی علیم اور آپ کے صحابہ پر بڑے بڑے ظلم کئے تھے۔انہوں نے ان پر ہنسی مذاق اڑایا۔ان کے خلاف گالی گلوچ سے کام لیا۔انہیں خدا کی عبادت سے روکا، ان کو بے دردانہ طور پر مارا اور بعض کو تو ظالمانہ طور پر قتل کر دیا گیا پھر جب رسول کریم صلی علی کرم اور آپ کے صحابہ مدینہ میں ہجرت کر کے آئے تو یہاں بھی دشمنوں نے انہیں چین سے بیٹھنے نہ دیا اور حملہ کر دیا۔دنیا میں عام طور پر ایسے مخالف حالات کے رونما ہونے پر لوگ چاہتے ہیں کہ اگر ان کا بس چلے تو اپنے دشمنوں کو آروں سے چیر دیں۔انہیں آگ میں جلا دیں۔انہیں پہاڑوں سے گرا دیں، انہیں پانی میں غرق کر دیں مگر صحابہ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْةٌ لَكُمْ 4 ہم نے تمہیں جنگ کا حکم تو دیا ہے مگر وہ تم پر سخت گراں گزر رہا ہے۔جن لوگوں کے قلوب کی یہ کیفیت ہو تم سمجھ سکتے ہو کہ ان کی جنگ کتنی بڑی نیکی تھی۔وہ اپنے دلوں میں لڑائی کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن سمجھتے تھے کہ جب خدا نے لڑائی کا حکم دیا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ دشمن لڑیں۔پس ایک طرف وہ لڑتے تھے، جوش سے لڑتے تھے اور بڑی بڑی قربانی کرتے تھے مگر دوسری طرف ان کی یہ حالت تھی کہ ان کے دل اندر سے سے جاتے تھے۔بیٹھے جب صحابہ کا یہ حال تھا تو تم سمجھ سکتے ہو کہ رسول کریم صلی ا نام کا کیا حال ہو گا۔قرآن کریم اس کیفیت کا ان الفاظ میں ذکر فرماتا ہے کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ 5 یعنی ان لوگوں کے ایمان نہ لانے اور کافر رہنے کا ہمارے رسول کو