خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 522

* 1941 522 خطبات محمود وفادار رہنے کا حکم دیتی ہے۔دوسرے لوگوں کو اگر ایسے حالات پیش آئیں تو وہ خلاف قانون حرکات سے اپنا غصہ نکال لیتے ہیں مگر ہمیں اس کی بھی اجازت اسلام نہیں دیتا۔اور یہ بات ظاہر ہے کہ ناجائز دکھ پہنچانے والے دلائل سے نہیں مانا کرتے۔کہتے ہیں لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے اور یہ ذریعہ خدا تعالیٰ نے ہم سے چھین لیا ہے۔ہمیں یہی حکم ہے کہ یا تو جس ملک میں رہو اس کی حکومت کی فرمانبرداری کرو یا پھر اس ملک کو چھوڑ دو۔ہمارے مقدس مذہبی مقامات قادیان اور پنجاب میں ہیں۔اس لئے ہم ملک کو بھی نہیں چھوڑ سکتے اور حکومت کی مخالفت بھی نہیں کر سکتے۔پس اس صورت میں ہمارے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حضور گر جائیں اور اس سے عاجزانہ دعائیں کریں اور کہیں کہ اے خدا دشمن ہم پر حملے کر رہا ہے اور ہمارے ہاتھ تو نے باندھے ہوئے ہیں اور ہم مقابلہ نہیں کر سکتے۔اس لئے ہمارے دشمن کے ہاتھ بھی تو ہی باندھ دے ہمارے لئے جو مشکلات ہیں وہ بھی تیری کسی حکمت اور مصلحت کے ماتحت ہی ہیں اور تیرا فضل ہو تو انہی مشکلات سے بہت اعلیٰ نتائج ہمارے لئے نکل سکتے ہیں یہ مشکلات گو سخت ہیں مگر ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنے فضل سے ان کو دور فرما دے۔ہماری جماعت نے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے تازہ نشانات دیکھے ہیں اور حال ہی میں ایک نشان حیرت انگیز طور پر پورا ہوا ہے۔مجھے حیرت ہے کہ بعض لوگ خود غور نہیں کرتے اور پوچھتے ہیں کہ فلاں رؤیا کس طرح پورا ہوا۔میں نے اکتوبر 1940ء میں رویا دیکھا تھا کہ میرے سامنے کچھ کاغذات پیش کئے گئے ہیں جو پٹیان گورنمنٹ کے متعلق ہیں اور ان کو دیکھ کر مجھے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کچھ حرکات انگریزوں کے خلاف کر رہی ہے۔اور انگریز پہلی دوستی کے لحاظ کی وجہ سے کچھ کر نہیں کر سکتے اور میں خواب میں ہی گھبراتا ہوں کہ اب کیا بنے گا۔تو میرے دل میں ڈالا جاتا ہے کہ یہ صرف ایک سال کی بات ہے۔سال کے