خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 475

* 1941 475 خطبات محمود درس میں بھی مرد اور عورتیں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شامل ہوں۔اَن پڑھ اس سے مستثنیٰ نہیں بلکہ ان پر پڑھے ہوئے لوگوں کی نسبت زیادہ ذمہ داری ہے کیونکہ اس کے علاوہ انہیں سارا سال قرآن کریم کو سننے کا اور کوئی موقع نہیں ملتا پھر میں کارکنوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ عورتوں کے لئے درس سننے کا خاص طور پر انتظام کریں کیونکہ قرآن پڑھی ہوئی عورتیں کم ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسی عورتیں موجود ہیں جو قرآن کریم پڑھی ہوئی ہیں مگر پھر بھی مردوں کے مقابلہ میں کم ہیں اور اس بات کی ضرورت ہے کہ ان کے لئے خاص طور پر انتظام کیا جائے۔پھر میں بیرونی جماعتوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بھی اپنی اپنی جگہ درس کا ہے انتظام کریں۔اب تو درس دینے میں اس لحاظ سے بہت کچھ سہولت پیدا ہو چکی۔کہ قرآن کریم کے ایک حصہ کی تفسیر ہماری طرف سے شائع ہو گئی ہے۔پس اگر جماعتیں سارے قرآن کے درس کا انتظام نہ کر سکتی ہوں تو انہیں اس مہینہ میں تفسیر کبیر کے درس کا انتظام کرنا چاہئے۔جنہوں نے یہ تفسیر ابھی تک نہیں پڑھی اس ذریعہ سے وہ اس تفسیر کو سن سکیں گے اور جنہوں نے ایک دفعہ اس کو پڑھا ہوا ہے انہیں اس ذریعہ سے اس کے مضامین دوبارہ تازہ ہو جائیں گے۔کیونکہ خالی ایک دفعہ پڑھ لینے سے کوئی چیز یاد نہیں رہتی بلکہ بار بار پڑھنے سے یاد رہتی ہے۔مدرسوں میں ہی دیکھ لو۔کس طرح بار بار سبق یاد کرائے جاتے ہیں اسی طرح کسی کتاب سے صحیح رنگ میں اسی وقت فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جب اس کے مضامین یاد ہوں۔ایک کتاب کو پڑھ کر رکھ دینا اور پھر اس سے کبھی بطور ریفرنس کام لے لینا کتاب کا صحیح استعمال نہیں کہلاتا۔کتاب کا صحیح استعمال یہی ہوتا ہے کہ اسے بار بار پڑھا جائے اور اس کے مطالب کو یاد رکھا جائے اور یہ صرف دوسروں کی لکھی ہوئی کتابوں کے متعلق ہی ضروری نہیں ہوتا بلکہ اپنی تصنیف بھی اسی نقطہ نگاہ کے ماتحت انسان کو پڑھنی پڑتی ہے۔چنانچہ میں نے خود اس رنگ میں کئی دفعہ اس تفسیر کے بعض حصوں کو ހނ