خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 467

خطبات محمود کہ دونوں 467 1941ء بقیہ حاشیہ : وہاں سے غائب ہو گئی ہیں اور میں کہتا ہوں کہ اور خود ان کو دیکھو میرے رب کا احسان کہ اس نے اس ذلت سے ہمیں بچا لیا اور غائب کر دیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اللہ تعالی نے بغیر اس کے کہ کوئی اور دروازہ اس کمرہ میں ہو۔ ان کو غائب کر دیا۔ عجیب بات ہے کہ جس کمرہ میں میں نے اپنے آپ کو دیکھا وہ شمال کی طرف تھا اور صحن جس میں سے پولیس آئی وہ جنوب کی طرف تھا۔ اسی طرح یہ کوٹھی جس میں ہم تھے اس کا صحن جنوب کی طرف تھا اور اسی طرف سے پولیس داخل ہوئی۔ میں وہاں سے گھر آیا اور حیرت سے امة القیوم سے کہتا ہوں کہ میں تو بڑا ڈرا تھا مگر اللہ تعالیٰ تم کو وہاں سے نکال لایا اور بے پردگی سے ہم بچ گئے چونکہ امۃ القیوم بیگم سلمہا اور خلیل احمد ایک ہی والدہ سے ہیں اور بہن بھائی ہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے کسی مصلحت سے خلیل کی جگہ امة القيوم سلمہا اللہ تعالیٰ کو دکھا دیا جیسا کہ عالم رویا میں کثرت سے ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی عجیب بات ہے کہ اس وقت امة القیوم بیگم اور مریم صدیقہ دونوں کو بھی میں موجود تھیں حالانکہ مریم صدیقہ واپس آ رہی تھیں اور پھر کسی وجہ سے وہاں ٹھہر گئیں اور امة القیوم سلمہا اللہ تعالیٰ کی شادی ہو چکی ہے اور وہ سرگودھا میں تھیں۔ مگر خاوند کی چند دن کی رخصت کی وجہ سے میرے پاس مہمان ہو کر آئی ہوئی تھیں۔ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْبَرَنِي بِهَذِهِ الْبَلِيَّةِ قَبْلَ وُقُوْعِهَا وَسَلَّانِي قَبْلَ نُزُولِ الْآلَمِ هُوَ مَوْلَايَ وَ عَلَيْهِ تِكْلَانِي إِلَيْهِ اُفَوِّضُ أَمْرِي وَ أَرْجُوا مِنْهُ كُلَّ وو الْخَيْرِ " )الفضل 14 ستمبر 1941ء( أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ( النساء: 60)