خطبات محمود (جلد 22) — Page 447
* 1941 447 خطبات محمود ހ رائفلیں لے کر ہمارے مکان پر پہنچ گئی ہے۔اس کے بعد میں پھر خط لکھنے میں مشغول ہو گیا اور تھوڑی دیر کے بعد میں نے مرزا مظفر احمد سے کہا کہ مجھے تو قانون کا علم نہیں تم قانون پڑھے ہوئے ہو۔کیا پولیس کا کسی کے مکان کے اندر داخل ہونا جائز ہے؟ انہوں نے کہا کہ قانون کے رو سے یہ بالکل ناجائز ہے۔میں نے کہا تو پھر تم جاؤ اور پولیس والوں سے بات کرو۔اتنے میں مرزا ناصر احمد بھی آ گئے اور کہنے لگے کہ پولیس والے ہمارے مکان کے اندر کیوں بیٹھے ہیں اور درد صاحب نے انہیں بیٹھنے کیوں دیا۔یہ بالکل خلاف قانون حرکت ہے جو پولیس والوں نے کی ہے۔پولیس والے بغیر اجازت کے کسی گھر میں داخل نہیں ہو سکتے اور اگر وہ داخل ہوں تو اس صورت میں انہیں اپنی تلاشی دینی ضروری ہوتی ہے۔کیونکہ کیا پتہ کہ وہ کوئی ناجائز چیز اندر پھینک جائیں۔اس لئے قانون یہی کہتا ہے کہ پولیس کی پہلے تلاشی ہونی ضروری ہے تا ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی طرف سے کوئی ناجائز چیز پھینک دے اور گھر والوں کو مجرم بنا دے پھر انہوں نے پوچھا کہ کیا پولیس والوں کی تلاشی لے لی گئی تھی؟ میں نے کہا کہ میرے علم میں تو یہ بات نہیں آئی کہ پولیس والوں کی تلاشی لی گئی ہو۔اس پر وہ کہنے لگے کہ یہ درد صاحب کا فرض تھا کہ ولیس والوں کو اندر نہ آنے دیتے۔مرزا ناصر احمد نے چونکہ بیرسٹری کی بھی کچھ تعلیم پائی تھی وہ کچھ قانون سے واقف ہیں۔میں نے کہا کہ جب پولیس والوں کو قانوناً یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے کے مکان میں داخل ہوں تو پھر جاؤ اور ان کو قائل کرو اس پر وہ نیچے آئے اور پولیس والوں سے اونچی باتیں کرنے لگے۔مرزا ناصر احمد کی آواز ذرا زیادہ بلند تھی میں نے اس وقت خیال کیا کہ یہ بچہ ہے اور اسے ابھی پورا تجربہ نہیں ہم اس وقت چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں۔اگر اس نے کوئی بات کی تو ممکن ہے پولیس والے اس پر کوئی الزام لگا دیں کہ اس نے ہم پر دست درازی کی ہے اس لئے میں جلدی سے نیچے اترا۔اس وقت پولیس والے اندر کے کمرہ سے نکل کر برآمدہ میں آ چکے تھے اور مرزا ناصر احمد