خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 436

1941ء 436 خطبات محمود کم ہوتی چلی جارہی ہے اور وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں آپ سے گہرا تعلق اور بے تکلفی رکھتے تھے ان میں سے تو غالباً منشی ظفر احمد صاحب آخری آدمی تھے۔ کپورتھلہ کی جماعت کو ایک یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ حضرت مسیح موعود وعود علیہ السلام نے اس جماعت کو یہ لکھ کر بھیجا تھا کہ مجھے یقین ہے جس طرح خدا نے اس دنیا میں ہمیں اکٹھا رکھا ہے اسی طرح اگلے جہان میں بھی کپورتھلہ کی جماعت کو میرے ساتھ رکھے گا 6 مگر اس سے کپور تھلہ کی جماعت کا ہر فرد مراد نہیں بلکہ صرف وہی لوگ مراد ہیں جنہوں نے اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ساتھ دیا جیسے منشی اروڑے خان صاحب تھے یا منشی محمد خان صاحب تھے یا منشی ظفر احمد صاحب تھے۔ یہ لوگ حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کے ہزاروں نشانوں کا چلتا پھرتا ریکارڈ تھے۔ نامعلوم لوگوں نے کس حد تک ان ریکارڈوں کو محفوظ کیا مگر بہر حال خدا تعالیٰ کے ہزاروں نشانات کے وہ چشم دید گواہ تھے۔ ان ہزاروں نشانات کے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ اور آپ کی زبان اور آپ کے کان اور آپ کے پاؤں وغیرہ کے ذریعے ظاہر ہوئے۔ تم صرف وہ نشانات پڑھتے ہو جو الہامات پورے ہو کر نشان قرار پائے مگر اُن نشانوں سے ہزاروں گنے زیادہ وہ نشانات ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی زبان، ناک، کان، ہاتھ اور پاؤں پر جاری کرتا ہے اور ساتھ رہنے والے سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ خدا کے نشانات ظاہر ہو رہے ہیں۔ وہ انہیں اتفاق قرار نہیں دیتے کیونکہ وہ نشانات ایسے حالات میں ظاہر ہوتے ہیں جو بالکل مخالف ہوتے ہیں اور جن میں ان باتوں کا پورا ہونا بہت بڑا نشان ہوتا ہے۔ پس ایک ایک صحابی جو فوت ہوتا ہے وہ ہمارے ریکارڈ کا ایک رجسٹر ہوتا ہے جسے ہم زمین میں دفن کر دیتے ہیں۔ اگر ہم نے ان رجسٹروں کی نقلیں کرلی ہیں تو یہ ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے اور اگر ہم نے ان کی نقلیں نہیں کیں تو یہ ہماری بدقسمتی کی علامت ہے۔ بہر حال ان لوگوں کی قدر کرو۔ ان کے نقش قدم پر چلو اور اس بات کو اچھی طرح یاد رکھو کہ فلسفیانہ ایمان