خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 409

* 1941 409 خطبات محمود جماعت کو خوب دیکھ لیا ہم تو اس کے اندر رہ کر اس کی حقیقت معلوم کر چکے ہیں۔سارے ابتلاء در حقیقت بے استقلالی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔اگر انسان اپنے نفس کو روکے اور اسی وقت کسی عقیدہ اور مذہب کو تسلیم کرے۔جب وہ سمجھے کہ واقع میں فلاں عقیدہ یا فلاں مذہب صحیح ہے۔جذبات کے ماتحت کام نہ کرے تو اس قسم کی ٹھوکریں اسے ہر گز نہ لگیں۔یہی وجہ ہے کہ جب میرے پاس کوئی شخص بیعت کرنے کے لئے آتا ہے تو میں ہمیشہ اسے کہا کرتا ہوں کہ ابھی سوچو اور غورو فکر سے کام لو اور اللہ تعالیٰ سے استخارہ بھی کرو۔لیکن جماعت کے عام لوگوں کا یہ دستور ہے کہ ادھر وہ تبلیغ کرتے ہیں اور اُدھر کہتے ہیں بیعت کر لو۔اس لغویت کا سب سے بڑھ کر نمونہ ایک دفعہ سفر سندھ میں میں نے دیکھا۔گجرات کے ایک دوست تھے جن کو دفتر والوں نے خدمت کے لئے اپنے ساتھ لے لیا جہاں گاڑی اس پر کھڑی ہوتی وہ حفاظت اور پہرہ کے لئے میرے قریب آ جاتے۔اتفاقاً کسی سٹیشن انہیں ایک گجراتی مل گیا۔اس نے کسی دوسرے سے کوئی بات کی جس پر انہوں نے اس کی آواز اور لب و لہجہ سے پہچان لیا کہ یہ گجراتی ہے۔چنانچہ انہوں نے اسے بلایا اور جس طرح ہمارے ملک میں طریق ہے کہ پوچھا جاتا ہے تم کدھر جا رہے ہو دوسرا کہتا ہے تم کدھر جا رہے ہو۔اسی طرح انہوں نے ایک دوسرے سے پوچھا۔شخص نے بتایا کہ میں نوکری کی تلاش میں ادھر آیا ہوں۔اور انہوں نے میرا نام لیا اور کہا کہ میں ان کے ساتھ آیا ہوں۔پھر انہوں نے اس شخص کا ہاتھ پکڑا اور لگے چلو حضرت صاحب کو اپنے لئے دعا کرنے کے لئے کہو۔اب اس بے چارے کو نہ یہ پتہ کہ دعا کیا ہوتی ہے اور نہ یہ علم کہ میں کون ہوں۔مگر یہ خیال کر کے کہ اس کا ایک ہم وطن اس کو یہ تحریک کر رہا ہے اس کے ساتھ چل پڑا اور میرے قریب آکر وہ دوسرے کی طرف مخاطب ہو کر کہنے لگے۔یہ دعا کے لئے عرض کرتے ہیں۔اس نے بھی شرم سے ایک دو فقرے کہہ دیئے۔اس کے بعد وہ بڑے اطمینان سے اسے کہنے لگے بیعت کر لینی اچھی ہوتی ہے بیعت کر لو۔میں نے