خطبات محمود (جلد 22) — Page 403
1941ء 403 خطبات محمود ہمیشہ سے چلا آیا ہے۔ اور ہمیشہ چلتا چلا جائے گا مگر وہ جو اپنے آپ کو ہٹلر زماں سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ تمام افراد نیکی کے ایک معیار پر ہوں ان کا ایک لیول ہو، ان سب میں ایک قسم کی قربانی کی خواہش پائی جاتی ہو۔ سب میں نیکیوں کا ایک جیسا جوش ہو۔ اور کوئی نقص اور کمزوری ان میں سے کسی میں دکھائی نہ دیتی ہو۔ غرض ان کا پہلا جنون تو یہ ہوتا ہے کہ وہ خدا پر حاکم بننا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ الہی سلسلے ان کے معیار کے مطابق ہوں۔ خدائی طریق کے مطابق نہ ہوں۔ پھر دوسرا جنون ان کا یہ ہوتا ہے کہ جب وہ ایک سلسلہ کو دیکھتے ہیں تو اندھے ہو جاتے ہیں اور باوجود اس کے کہ جو باتیں ان کے ذہن میں ہوتی ہیں وہ اس سلسلہ کے تمام افراد میں موجود نہیں ہوتیں۔ پھر بھی وہ کہتے ہیں کہ ہم نے دیکھ لیا۔ یہ سلسلہ بالکل سچا اور خدا تعالیٰ کا قائم کردہ ہے پھر مہینہ ڈیڑھ مہینے کے بعد جب ان کا جنون دور ہوتا ہے تو انہیں لوگوں میں وہ کمزوریاں بھی نظر آنے لگ جاتی ہیں جو مومنوں کی جماعتوں میں بھی ہوتی ہیں، انہیں وہ منافق بھی نظر آنے لگ جاتے ہیں جو ہر جماعت میں پائے جاتے ہیں، انہیں وہ مرتد بھی نظر آنے لگ جاتے ہیں جو ہمیشہ الہی جماعتوں سے کٹ کر علیحدہ ہوتے رہے ہیں اور کہتے ہیں ہم سے بڑا دھوکا ہوا ہم سمجھے کچھ اور تھے اور نکلا کچھ اور۔ حالانکہ قرآن موجود ہے۔ تم اسے پڑھ کر دیکھ لو کیا دنیا میں کبھی کوئی جماعت ایسی ہوئی ہے جس میں کمزور لوگ نہ پائے گئے ہوں جس میں منافق نہ ہوں اور جس میں مرتدین کا وجود نہ پایا جاتا ہو۔ رسول کریم صلی علیم کی جماعت سے بڑھ کر اور کونسی جماعت ہو سکتی ہے۔ مگر ہمیں تو رسول کریم صلی علیم کی جماعت میں بھی منافق نظر آتے ہیں۔ آپ کی جماعت میں بھی سست لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ آپ کی جماعت میں بھی گالیاں دینے والے نظر آتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی چست اور مخلص لوگ بھی رگ آپ کی جماعت میں نظر آتے ہیں۔ پھر اگر یہی باتیں کسی اور جماعت میں پائی جائیں